احکام وراثت

بیوہ ،چار بیٹیوں، ایک بہن اور نو بھتیجوں کے درمیان میراث کی تقسیم

فتوی نمبر :
930
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بیوہ ،چار بیٹیوں، ایک بہن اور نو بھتیجوں کے درمیان میراث کی تقسیم

ایک شخص کا انتقال ہوگیا، اس کے ورثا میں ایک بیوی، چار بیٹیاں، ایک بہن اور نو بھتیجے (بھائیوں کے بیٹے) ہیں، کوئی بیٹا یا بھائی موجود نہیں، اب بتائیے کہ فرائض نکالنے کے بعد باقی ترکہ (حصۂ عصبہ) بہن کو ملے گا یا بھتیجوں کو؟ اور عصبہ بالنفس کون شمار ہوں گے بہن یا بھتیجے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین اور تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال کےچوبیس حصے کیے جائیں گے، جس میں سے تین حصے مرحوم کی بیوی کو دئیےجائیں گے اور مرحوم کی ہربیٹی کو چار،چار حصے دئیے جائیں گے اور پانچ حصے مرحوم کی بہن کو دئیے جائیں گے اور مرحوم کے بھتیجوں کو کچھ نہیں دیا جائے گا ۔

نیز مرحوم کی بہن عصبہ بالغیر ہے اور میت کے بھتیجے عصبہ بنفسہ اور جب عصبہ بالغیر اور عصبہ بنفسہ جمع ہو جائیں تو اعتبار مرحوم کے زیادہ قریب ہونے کا ہوتا ہے نہ کہ عصبہ کا، چونکہ میت کی بہن اس کے زیادہ قریب ہے، اس لیے بہن کو میراث ملے گی اور بھتیجے محروم ہو جائیں گے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:( النساء 12:4)
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم.

الهندية:(450/6،ط: دارالفكر)
الخامسة: الأخوات لأب وأم للواحدة النصف وللثنتين فصاعدا الثلثان، كذا في خزانة المفتين ومع الأخ لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين، ولهن الباقي مع البنات أومع بنات الابن، كذا في الكافي.

حاشيةالسراجی فی المیراث:(ص:56،ط: البشری)
أولى من الأخ لأب: قال في تنوير الأبصار» وشرحه (الدر المختار»: وكذلك الأخت لأب وأم أو الأخت لأب إذا صارت عصبة مع البنت أولى من ابن الأخ لأب وأم وابن الأخ لأب، مع أن الأنثى عصبة مع غيره والذكر عصبة بنفسه وذلك؛ لأن العصوبة بنفسها أو الذكورة ليست من وجوه الترجيح المطردة المنعكسة؛ إنما الترجيح بإحدى الثلاثة على الترتيب: الجهة، ثم القرب، ثم القوة، فليحفظ فإنه من مزلة الأقدام.

وأيضاً:(ص:12،ط:مکتبہ امام احمد رضا)
واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدة والثلثان للاثنين فصاعدا ومع الابن للذكر مثل حظ الانثيين وهو يعصبهن.

الهندية: (6/ 452،ط: دارالفکر)
إذا اجتمعت العصبات بعضها عصبة بنفسها وبعضها عصبة بغيرها وبعضها عصبة مع غيرها فالترجيح منها بالقرب إلى الميت لا بكونها عصبة بنفسها، حتى أن العصبة مع غيرها إذا كانت أقرب إلى الميت من العصبة بنفسها كانت العصبة مع غيرها أولى. بيانه إذا هلك الرجل وترك بنتا وأختا لأب وأم وابن أخ لأب فنصف الميراث للبنت والنصف للأخت ولا شيء لابن الأخ؛ لأن الأخت ‌صارت ‌عصبة ‌مع ‌البنت وهي إلى الميت أقرب من ابن الأخ، وكذلك إذا كان مع ابن الأخ عم لا شيء للعم، وكذلك إذا كان مكان ابن الأخ أخا لأب لا شيء للأخ، كذا في المحيط أما العصبة السببية فالمعتق ثم عصبته على الترتيب الذي مر في العصبات النسبية، كذا في الكافي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
2025-09-22
88
فتوی نمبر 930کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --