احکام وراثت

والد کے زندگی میں جائیداد تقسیم ہونے کی صورت میں میراث کی تقسیم

فتوی نمبر :
1184
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والد کے زندگی میں جائیداد تقسیم ہونے کی صورت میں میراث کی تقسیم

کیا فرماتے ہیں مفتیا کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی جائید اد اپنی زندگی میں اپنی اولاد میں تقسیم کردی اور کہا کہ میرے مرنے کے بعد تمہارا جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ ا س شخص کے مرنے کے بعد اس کے اولاد کو جائیداد میں حصہ ملے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ والد اپنی زندگی میں اپنی اولادکو جو کچھ دیتا ہے وہ میراث نہیں، بلکہ ہبہ (تحفہ ، گفٹ ) ہے ،لہذا اس طرح کرنے سے اولاد میراث سے محروم نہیں ہوگی، بلکہ ان صاحب کے وفات کے بعد ان کے اولاد میں میراث تقسیم ہوگی ۔

حوالہ جات

الشامية : (6/ 758، ط:دارالفكر)
وشروطه: ثلاثة: ‌موت ‌مورث حقيقة، أو حكما .

البحر الرائق: (8/ 459، ط:دارالكتاب الاسلامي )
وفي الشريعة (‌الوصية ‌تمليك ‌مضاف لما بعد الموت) بطريق التبرع سواء كانت ذلك في الأعيان أو في المنافع كذا في عامة الشروح .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
43
فتوی نمبر 1184کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --