کیا فرماتے ہیں مفتیا کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی جائید اد اپنی زندگی میں اپنی اولاد میں تقسیم کردی اور کہا کہ میرے مرنے کے بعد تمہارا جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ ا س شخص کے مرنے کے بعد اس کے اولاد کو جائیداد میں حصہ ملے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ والد اپنی زندگی میں اپنی اولادکو جو کچھ دیتا ہے وہ میراث نہیں، بلکہ ہبہ (تحفہ ، گفٹ ) ہے ،لہذا اس طرح کرنے سے اولاد میراث سے محروم نہیں ہوگی، بلکہ ان صاحب کے وفات کے بعد ان کے اولاد میں میراث تقسیم ہوگی ۔
الشامية : (6/ 758، ط:دارالفكر)
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما .
البحر الرائق: (8/ 459، ط:دارالكتاب الاسلامي )
وفي الشريعة (الوصية تمليك مضاف لما بعد الموت) بطريق التبرع سواء كانت ذلك في الأعيان أو في المنافع كذا في عامة الشروح .