کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ا س مسئلہ کے بارے میں کہ میں حال ہی اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوا ہوں ، میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں ہی جائیداد تقسیم کردوں اس لیے میں چند باتوں کے متعلق معلوم کرنا ہے (۱) وراثت میں صرف میرے ذاتی گھر کی تقسیم ہوگی یا میرے پاس موجود نقدرقم کی بھی ؟(۲) میرا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا ؟(۳) آج اگر میرے گھر کی قیمت پچاس لاکھ روپےہیں اور بیس لاکھ میرے پاس نقد ہیں تو ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کو کتنا کتنا حصہ ملے گا ؟
جواب عنایت فرمائیں
واضح رہے کہ والد کا اپنی زندگی میں اپنے اولاد کو کچھ دینا ہبہ (تحفہ ، گفٹ ) کہلاتا ہے ، یہ میراث نہیں ،اس لیے اس بارے میں والد خود مختارہے جس کو جتنا دینا چاہے دے سکتا ہے تاہم اگر لڑکوں اور لڑکیوں میں برابری کردے تو یہ بہتر ہے ۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کو اختیار ہے آپ چاہے تو کل جائیداد تقسم کردے اور چاہے تو صرف گھر تقسیم کرے۔اسی طرح بیٹے اور بیٹیوں میں سے جس کو جتنا دینا چاہے وہ بھی آپ کے صوابدید پر ہے ، آپ ان کو ان کے حصے کا مالک بنادے اور آپ دستبردار ہوجائے ، البتہ شریعت کی رو سے اگر آپ تقسیم کرناچاہتے ہیں تو بیٹے اور بیٹی کا حصہ برابر رکھنا ہوگا ۔
السنن الكبرى للنسائي : (6/ 176، رقم الحديث : 6480،مؤسسة الرسالة )
عن مسلم بن صبيح، قال: سمعت النعمان بن بشير يقول وهو يخطب: انطلق بي أبي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ ليشهده على عطية أعطانيها، فقال: هل لك بنون سواه؟، قال: نعم، قال: سو بينهم.
البحر الرائق: (7/ 288، ط: دارالكتاب الاسلامي )
يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط.