احکام وراثت

والد کا اپنی اولادمیں جائیداد تقسیم کرکے ایک بچے کو نہ دینے کا حکم

فتوی نمبر :
1552
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والد کا اپنی اولادمیں جائیداد تقسیم کرکے ایک بچے کو نہ دینے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرا م اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری ایک بہن نے کورٹ میرج کرلی تھی اس وقت ہمارت والد صاحب حیات تھے ، اور بہن کی یہ بات ہمارے لیے کافی ناگوار تھی اس لیے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی ساری جائیداد ہم تین بھائیوں او ر تین بہنوں میں تقسیم کرکے انتقال بھی ہمارے نام کردیا تھا ، البتہ ہماری چوتھی بہن جس نے کورٹ میرج کرلی تھی ان کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا تھا
اب والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے تو ہماری جس بہن کو والد صاحب نے حصہ نہیں دیا تھا اس کا حصہ ہمیں ملے ہوئے جائیداد میں ہوگا یا نہیں ؟ برائے مہربانی ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ والد کا اپنی زندگی میں اولا د کو کچھ دیناہبہ (تحفہ ،گفٹ ) کہلا تا ہے ، والد جس کو جودے دیں وہ اس کا مالک ہوجاتاہے ۔
لہذاپوچھی گئی صورت میں اگر والد نے آپ حضرات کو قبضہ بھی کروا دیا تھا تو اس کے آپ مالک ہیں ، آپ کی کورٹ میرج کرنے والی بہن کااس میں کوئی حصہ نہیں ہے ، البتہ آپ لوگوں کو دیئے جانے والے جائیداد کے علاوہ اگر والد نے کوئی اور مال چھوڑا ہوتو اس میں اس بہن کو بھی دوسرے بہنوں کے برابر حصہ ملے گا ۔

حوالہ جات

الدرالمختار: (5/ 688 ، ط: دارالفكر)
و) شرائط صحتها (في الموهوب ‌أن ‌يكون ‌مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح.

البحر الرائق : (7/ 284، ط: دارالكتاب الاسلامي )
قوله هي تمليك العين بلا عوض) فخرجت الإباحة والعارية والإجارة والبيع وهبة الدين ممن عليه فإنه إسقاط وإن كان بلفظ الهبة .... وشرائط صحتها ‌في ‌الواهب ‌العقل والبلوغ والملك فلا تصح هبة المجنون والصغير والعبد ولو مكاتبا أو أم ولد أو مدبرا أو مبعضا وغير المالك وفي الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع متميزا غير مشغول على ما سيأتي تفصيله وركنها هو الإيجاب والقبول وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ وعدم صحة خيار الشرط فيها .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
53
فتوی نمبر 1552کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --