اگر والد انتقال کر جائے تو میراث کا شرعاً کیا حکم ہے ؟
جب والد کا انتقال ہو جائے تو سب سے پہلے ان کے ترکہ سے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جائیں گے، اس کے بعد اگر کوئی قرض ہو تو وہ پورا کیا جائے گا، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ زیادہ سے زیادہ ایک تہائی ترکہ سے نافذ کی جائے گی، اس کے بعد جو مال باقی بچے، وہ شرعی اصولوں کے مطابق ورثا میں تقسیم ہوگا۔
*ملتقى الأبحر:(495/1،ط:دار الكتب العلمية)*
يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ودفنه بلا إسراف ولا تقتير ثم تقضى ديونه ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته ويستحق الإرث بنسب ونكاح وولاء. ويبدأ بأصحاب الفروض ثم بالعصاب النسبية، ثم بالمعتق ثم عصبته، ثم الرد ثم ذوي الأرحام ثم مولي الموالاة ثم المقر له بنسب لم يثبت ثم الموصى له بأكثر من الثلث ثم بيت المال.
*السراجي:(ص:5،ط:مكتبة البشرى)*
قال علماؤنا له : تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة: الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير، ثم تقضى ديونه من جميع بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب السنة وإجماع الأمة.