احکام وراثت

سات بیٹوں، ایک بیٹی اور ایک بیوہ میں تقسیم میراث

فتوی نمبر :
497
معاملات / ترکات / احکام وراثت

سات بیٹوں، ایک بیٹی اور ایک بیوہ میں تقسیم میراث

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص فوت ہوا اس کے ورثامیں سات بیٹے ایک بیٹی اور ایک اس کی بیوی ہے ، اور اس کا کل ترکہ ایک کروڑ ستر لاکھ روپے ہیں
برائے مہربانی یہ بتائیں کہ یہ ترکہ ان شرکاء میں کس طرح تقسیم ہوگا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز وتکفین، قرض کی ادائیگی اور کل مال کے ایک تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد، بچ جانے والی رقم کے کل ایک سو بیس ( 120) حصے کیے جائیں گے، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کوپندرہ ( 15), مرحوم کے ہر بیٹے کوچودہ ( 14) اور مرحوم کی بیٹی کو سات (7) حصے ملیں گے ۔
اس تقسیم کی رو سے ایک کروڑ ستر لاکھ روپے ( 17,000,000 ) میں سے مرحوم کی بیوہ کواکیس لاکھ ،پچیس ہزار روپے (2,125,000) اور ہر بیٹے کو انیس لاکھ ،اتریاسی ہزار،تین سو،تینتیس روپے (1,983,333) اور بیٹی کو نو لاکھ، اکیانوے ہزار، چھ سو ،چھیاسٹھ روپے (991,666) ملیں گے ۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:(6:12،النساء)
وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ.فان کان لکم ولد فلھن الثمن مِمَّا تَرَكْتُمْ من بعد وصیة.
الھندية :(6/ 451،ط:دارالفکر)
فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم،
ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
89
فتوی نمبر 497کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --