احکام وراثت

بیوہ چھ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں تقسیم میراث

فتوی نمبر :
1423
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بیوہ چھ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں تقسیم میراث

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دادا کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کے ورثامیں چھ بیٹے اور پانچ بیٹیاں اور زوجہ ہے ، اور ترکہ میں چار لاکھ کا جائیداد چھوڑی ہے تقسیم شرعی کیسے کریں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ میت کے تجہیز وتکفین ، قرض کی ادائیگی اور کل مال کے ایک تہائی میں وصیت نافذکرنے کے بعد کل مال کو ایک سو چھتیس (136)حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے ہر بیٹے کو چودہ (14) ، ہر بیٹی کو سات(7) اور بیوی کو سترہ(17) حصے دیئے جائیں گے ۔
اس تقسیم کی رو سے چار لاکھ میں سے ہر بیٹے کو اکتالیس ہزارایک سو چھتر (41176) روپے اورہر بیٹی کو بیس ہزار پانچ سو اٹھاسی (20588) روپے اور بیوی کو پچاس ہزار (50000) روپے ملیں گے۔

حوالہ جات

القرأن الكريم : [النساء:/4 11]
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ .

القرأن الكريم :[النساء:/4 12]
وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
54
فتوی نمبر 1423کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --