احکام وراثت

وارث کی زندگی میں فوت شدہ بیٹے کی وراثت کا حکم

فتوی نمبر :
762
معاملات / ترکات / احکام وراثت

وارث کی زندگی میں فوت شدہ بیٹے کی وراثت کا حکم

ایک بندہ فوت ہوگیا ہے اس کی بیوی مرحوم کے والد سے اس مرحوم کا حصہ مان رہی ہے آیا اس کو حصہ ملے گا یا نہیں؟ اور اگر ملے گا تو کتنا حصہ ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کوئی شخص شرعاً اسی صورت میں وارث بنتا ہے، جب وہ مورث (یعنی وہ شخص جس کی میراث تقسیم ہونی ہے) کے انتقال کے وقت زندہ ہو۔
لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے والد کی زندگی میں ہی وفات پا جائے تو وہ والد کی میراث کا وارث نہیں بنے گا، کیونکہ وہ والد کے انتقال کے وقت زندہ نہیں تھا۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ بیٹا اپنے والد کی زندگی میں وفات پا چکا ہے، اس لیے وہ خود وارث نہیں بن سکتا ۔
نیز بیوی کو میراث صرف اپنے شوہر کے مال سے ملتی ہے، نہ کہ شوہر کے والد یا سسرال کے مال سے، لہذا اس عورت کا اپنے سسر کی میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:(النساء7:3)
قال اللہ تعالیٰ : لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ وَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا

صحيح البخاري:(2476/6، رقم الحديث:6351 ط:دار ابن كثير)
حدثنا موسى بن إسماعيل: حدثنا وهيب: حدثنا ابن طاوس، عن أبيه، عن ابن عباس رضي الله عنهما،
عن النبي ﷺ قال: (ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر).

تكملة حاشية إبن عابدين:(349/7،ط: دارالفكر)
وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة، أو تقديرا كالحمل والعلم بجهل إرثه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
93
فتوی نمبر 762کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --