مسائل قربانی

قربانی کے وجوب کا نصاب

فتوی نمبر :
2515
عبادات / قربانی و ذبیحہ / مسائل قربانی

قربانی کے وجوب کا نصاب

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ایک لڑکی غیر شادی شدہ ہے ، جبکہ برسر روزگار ہے ، اس کے پاس ذاتی آئی فون ہے جس کی مالیت تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے ہے اور مزید چھوٹے موٹے سونے کے زیورات اور نقدی بھی اس کے پاس ہے۔
کیا اس پہ قربانی واجب ہوگی

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قربانی ہر اُس بالغ، عاقل اور مسلمان پر واجب ہوتی ہے جس کی ملکیت میں ایامِ قربانی کے دوران ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اُن میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقد رقم، مالِ تجارت، یا ضرورت و استعمال سے زائد سامان موجود ہو،نیز اگر ان چیزوں میں سے بعض یا سب کو ملا کر اُن کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر بن جائے تو ایسے مرد و عورت پر قربانی واجب ہوگی۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر آئی فون لڑکی کے ذاتی استعمال میں ہے تو وہ ضرورت کی اشیاء میں شمار ہوگا، البتہ اس کے علاوہ اگر اس کے پاس سونا، نقد رقم، یا دیگر ضرورت سے زائد سامان موجود ہو اور ان سب کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہو تو اُس پر قربانی کرنا واجب ہوگی۔

حوالہ جات

*الشامية: (6/ 312،ط:دارالفكر)*
وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)
(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم.

*الهندية:(1/ 191،ط:دارالفكر)*
وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب هكذا في فتاوى قاضي خان.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
1
فتوی نمبر 2515کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --