مسائل قربانی

خنثیٰ بکرے کی قربانی کا حکم

فتوی نمبر :
1545
عبادات / قربانی و ذبیحہ / مسائل قربانی

خنثیٰ بکرے کی قربانی کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں نے بکرا منڈی جا کر ایک بکرا پسند کرکے خرید لیا اور اس کی قیمت بھی ادا کردی بعد ازاں میں نے غور کیا تو بکرے میں کچھ عیب نظر آیا ( اس کی خصیہ کے ساتھ ساتھ تھن بھی تھے ) میں نے بیوپاری اس کا ذکر کیا تو اس نے کہااس کے اندر بکرا اور بکری دونوں کی خاصیات پائی گئی ہیں ۔
اب پوچھنا یہ ہے اس کی طرح کے بکرے کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قربانی کے جانورکا ہر قسم کے عیب سے پاک ہونا ضروری ہے اور خنثیٰ ہونا جانور میں عیب ہے ، اس لیے مذکورہ صورت میں اس بکرے کی قربانی جائز نہیں ، البتہ یہ بکرا حلال ہے اس کا کھانا جائز ہے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (6/ 325، ط: دارالفكر)
ولا ‌بالخنثى لأن لحمها لا ينضج شرح وهبانية.

الهندية: (5/ 299، ط: دارالفكر)
لا تجوز التضحية ‌بالشاة ‌الخنثى؛ لأن لحمها لا ينضج.

فتاوی دارالعلوم دیوبند:(15/573 ،ط:دارالاشاعت کراچی )
خنثیٰ جانور کی قربانی درست نہیں ہے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
43
فتوی نمبر 1545کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --