السلام علیکم ورحمۃ اللہ
مفتی صاحب!
بھینس کی قربانی کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ منع ہے؟
واضح رہے کہ بھینس کی قربانی بلا شبہ جائز ہے، نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر نہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ جزیرۂ عرب کی آب و ہوا بھینس کے لیے موزوں نہیں تھی، اس لیے وہاں یہ جانور موجود نہیں تھا، بعد میں جب اسلام ان علاقوں تک پہنچا جہاں بھینس پائی جاتی تھیں تو جلیل القدر تابعی حسن بصری رحمہ اللّٰہ اور جمہور علماء نے فرمایا: "الجوامیس بمنزلۃ البقر" یعنی بھینس کا حکم گائے کے برابر ہے، اسی بنا پرتمام فقہاء نے بھینس کی قربانی کو جائز قرار دیا ہے۔
*الھدایة:(359/4،ط: دار احياء التراث العربي)*
قال: «والأضحية من الإبل والبقر والغنم» لأنها عرفت شرعا ولم تنقل التضحية بغيرها من النبي ولا من الصحابة...ويدخل في البقر الجاموس لأنه من جنسه.
*الموسوعة الفقهية الكويتية: (158/8،ط: وزيارة الاوقات والشئون الاسلامية)*
البقر: اسم جنس. قال ابن سيده: ويطلق على الأهلي والوحشي، وعلى الذكر والأنثى، وواحده بقرة، وقيل: إنما دخلته الهاء لأنه واحد من الجنس. والجمع: بقرات، وقد سوى الفقهاء الجاموس بالبقر في الأحكام، وعاملوهما كجنس واحد.
*البناية شرح الهداية:(48/12،ط:دار الكتب العلمية)*
م: (ومن البقر) ش: أي والثني من البقر م: (ابن سنتين، ومن الإبل) ش: أي الثني من الإبل م: (ابن خمس سنين) ش: وطعن في السادسة م: (ويدخل في البقرة والجاموس؛ لأنه من جنسه) ش: كما في الزكاة فإنه يؤخذ من نصاب الجاموس ما يؤخذ من نصاب البقر، وقال في " خلاصة الفتاوى ": والجاموس يجوز في الهدايا والضحايا استحسانا.