مسائل قربانی

دوسرے ممالک سے لائے گئے قربانی کے گوشت کا حکم

فتوی نمبر :
93
عبادات / قربانی و ذبیحہ / مسائل قربانی

دوسرے ممالک سے لائے گئے قربانی کے گوشت کا حکم

سوال : السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب باہر ملک جیسے ترکی وغیرہ سے قربانی کے دنوں گوشت آتا ہے غریبوں کے لئے کوئی ٹیم آتی ہے تو وہ گوشت غریبوں کو لینا جائز ہے یا نہیں مہربانی فرما کر رہنمائی فرما دیں اللہ پاک آپکو جزائے خیر عطا فرمائیں آمین ثم آمین یا رب العالمین

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

الجواب باسم ملہم الصواب

واضح رہے کہ قربانی کا گوشت قربانی کرنے والا خود بھی کھا سکتا ہے اور فقرا کو بھی کھلا سکتا ہے،لہذا پوچھی گئی صورت میں باہر سے لایا گیا گوشت فقرا کھا سکتے ہیں۔

حوالہ جات

دلائل:

ملتقى الأبحر :(1/‏173،ط: دارالكتب العلمية)
وَيَأْكُل من لحم أضحيته وَيطْعم من شَاءَ من غَنِي وفقير.

الهداية:(4/‏360،ط:احیاء التراث)
ويأكل من لحم الأضحية ويطعم الأغنياء والفقراء ويدخر.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ اورنگی ٹاؤن،کراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
101
فتوی نمبر 93کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --