کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ:محمد بن عبدالغنی کے چار بیٹے (محمد عرفان، محمد ہاشم، محمد خالد، محمد عدنان) اور دو بیٹیاں ہیں۔ والد (محمد) کی ذاتی ملکیت میں دو دکانیں ہیں، جن میں سے ایک ہارڈ ویئر کی اور ایک کریانے کی ہے۔ دکانوں کے اوپر ایک مکان ہے، اس کے علاوہ ایک مکان الگ سے ان کی ملکیت میں ہے اور دو پلاٹ بھی ہیں۔
معاملہ یہ ہے کہ 2004ء میں والد صاحب نے ہارڈ ویئر کی دکان اپنے بیٹے "محمد ہاشم" کے حوالے کی۔ اس وقت دکان میں 5 لاکھ 13 ہزار روپے کا سامان تھا اور 6 لاکھ روپے کا قرض تھا۔ ہاشم نے 2004ء سے 2015ء تک دکان چلائی۔ اس دوران محمد ہاشم نے:
دکان کا 6 لاکھ روپے کا سابقہ قرض اتارا۔سالانہ کمیٹی کی مد میں اپنے والد صاحب کو 1 لاکھ 80 ہزار روپے دیتا رہا (جو 11 سالوں میں تقریباً 18 لاکھ روپے بنتے ہیں)۔گھر کے چھوٹے موٹے اخراجات (مثلاً بجلی، گیس کے بل، سبزی وغیرہ) دکان سے ہی ادا کیے۔اسی دکان سے 4 لاکھ روپے نکال کر گھر کا ایک کمرہ تعمیر کروایا۔
2013ء میں دکان کو گرا کر نئے سرے سے تعمیر کیا، جس پر تقریباً 16 لاکھ روپے لاگت آئی۔
اسی طرح ایک بھائی کا گھر بنا تو دکان سے تقریباً 5 لاکھ روپے کا سامان دیا۔
2012ء میں ایک بھائی "محمد عدنان" ہاشم کے ساتھ دکان پر بیٹھنے لگا، وہ ماہانہ 30 سے 40 ہزار روپے لیتا تھا، جو کہ 4 سال میں تقریباً 14 لاکھ روپے بنتے ہیں۔
جب 2015ء میں ہاشم نے دکان چھوڑی تو اس وقت دکان میں 47 لاکھ روپے کا سامان تھا، دکان پر قرض 10 لاکھ روپے تھا اور تقریباً 3 لاکھ روپے دکان کا ادھار لوگوں سے وصول کرنا تھا۔
2015ء میں والد صاحب نے ہاشم سے دکان واپس لے لی۔ پہلے کہا کہ اپنا سامان اور فٹنگ لے جاؤ، پھر کہا کہ آدھا سامان لے جاؤ اور اپنی الگ دکان بنا لو۔ لیکن آخر میں ہاشم کو 16 لاکھ روپے کا سامان اور 5 لاکھ روپے کیش (Cash) دیا۔ ہاشم نے وہ 3 لاکھ روپے بھی وصول کیے جو لوگوں سے لینے تھے۔ اس طرح ہاشم نے کیش کی مد میں تقریباً 8 لاکھ روپے وصول کیے۔ بعد ازاں محمد ہاشم نے دکان کا 6 لاکھ روپے قرضہ بھی ادا کیا، جس کے بعد ہاشم کے پاس کیش میں سے صرف 2 لاکھ روپے بچے۔
جب ہاشم نے الگ دکان کرایہ پر لی تو والد صاحب نے چند معزز لوگوں کے سامنے فیصلے میں کہا تھا کہ دکان کا آدھا کرایہ میں ادا کروں گا۔ ہاشم 9 سال کرایہ پر دکان چلاتے رہے (جس کا کرایہ تقریباً 35 لاکھ روپے بنتا ہے)، مگر والد صاحب نے ایک روپیہ بھی ادا نہ کیا۔
اس کے بعد محمد ہاشم نے الگ ہو کر تقریباً دن رات محنت کی اور 10 سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اللہ تعالیٰ نے برکت دی تو ہاشم نے کچھ کیش اور 60 لاکھ روپے قرضہ لے کر ایک پلاٹ لیا (1850 فٹ)، وہاں گھر بنایا اور اپنی ذاتی دکان بنائی۔
اب محمد ہاشم کے والد صاحب یہ الزام لگا رہے ہیں کہ تم نے یہ سب کچھ سابقہ دکان سے پیسے نکال کر بنایا ہے، جبکہ محمد ہاشم حلف اٹھانے کو تیار ہے کہ میں نے سابقہ دکان سے ایک روپے کی بھی ہیرا پھیری نہیں کی، والد صاحب کا مزید کہنا ہے کہ: "اپنی ساری جائیداد اسٹام پیپر پر لکھ کر میرے نام کرو اور یہ بھی لکھو کہ میں یا میری اولاد کبھی بھی والد (محمد) کی جائیداد میں سے حصے کا مطالبہ نہیں کریں گے، ورنہ تمہارا راستہ الگ اور ہمارا الگ، ہمارے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں۔"
شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں:والد صاحب کے اس الزام کی شرعی حیثیت کیا ہے؟کیا ہاشم اس بات کا پابند ہے کہ اپنی ذاتی محنت سے بنائی گئی جائیداد والد صاحب کے نام کرے؟
کیا ہاشم کی بنائی ہوئی اس پراپرٹی (جو اس نے گزشتہ 10 سالوں میں الگ ہو کر بنائی ہے۔) میں ہاشم کے دیگر بہن بھائیوں کا حصہ ہے؟
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں بلا ثبوت کسی پر الزام عائد کر نا معتبر نہیں، بلکہ سخت گناہ ہے، چونکہ مذکورہ صورت حال میں ہاشم پر سابقہ دکان سے رقم نکالنے کا الزام کسی شرعی دلیل سے ثابت نہیں، اس لیے یہ الزام قابل اعتبار نہیں، نیز یہ بات بھی ثابت ہے کہ ہاشم نے والد سے الگ ہو کر اپنی ذاتی محنت ، کاروبار اور آمدنی کے ذریعے کئی سال میں جو جائیداد بنائی ہے، وہ شرعاً اسی کی ملکیت ہے، لہذا اس پر یہ لازم نہیں کہ وہ اپنی جائیداد والد کے نام منتقل کرے اور نہ ہی اس جائیداد میں اس کے دیگر بھائیوں کا کوئی شرعی حصہ بنتا ہے، البتہ ہاشم پر والد کے ساتھ حسن سلوک، ادب اور احسان کا معاملہ کرنا بد ستور واجب ہے، تاہم ظلم برداشت کرنا یا نا جائز مطالبات تسلیم کرنا شرعاً لازم نہیں۔
*القرآن الکریم:6:58*
والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنت بغير ماكتسبوا فقد احتملوا بهتانا واثما مبينا.
*مرقاة المفاتيح:(135/6، ط:طیبہ)*
عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال قال رسول الله له ألا لا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ الا بطيب نفس منه.
*الهندية:(167/2،ط: دارالفکر)*
لا يجوز لاحد من المسلمين اخذ مال احد بغير سبب شرعي . كذا في البحر الرائق.