کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے والدین فوت ہوگئے ہیں اولاد میں بھی صرف لے پالک ہیں اور اس کا ایک بھائی اور چار بہنیں ہیں ان میں سے بھی ایک بہن کا اس شخص کے انتقال کے بعد انتقال ہوگیا ہے اور اس کے بچے اور شوہر زندہ ہیں ۔تو کیا مرحوم شخص کی جائیداد میں اس فوت شدہ بہن کی اولاد کو کوئی حصہ ہوگا ؟ اسی طرح مرحوم کے بھائی اور بہنوں کا کیا حصہ ہوگا ؟ اور اگر بہن بھائی کی اولاد ہو تو ان کا کیا حصہ ہوگا اسی طرح مرحوم کی بیوی اور لے پالک بچے کا کیا حصہ ہوگا ؟
میت کے تجہیز وتکفین ، قرض کی ادائیگی اور ایک ثلث میں وصیت نافذ کرنے کےبعد کل مال کوبائیس(۲۲) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں سے مرحوم کے بیوی کوچھ (6)،بھائی کوچھ (6) اور ہرایک بہن کو تین تین (3)حصے ملیں گے ۔ لے پالک اور اسی طرح بھائی اور بہنوں کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا ۔نیز مرحوم بہن کے تین حصے اس کے اولاد اور شوہر میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گے ۔
[النساء:,12/4 11]
ﵟيُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ ... فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ ﵞ
الدر المختار: (ص762، ط: دارالفكر)
فقال (فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) .
الهندية: (6/ 450، ط: دارالفكر)
وأما الثمن ففرض الزوجة أو الزوجات إذا كان للميت ولد أو ولد ابن.