السلام علیکم !
ایک ایکسیڈنٹ ہوا ، جس میں عدنان اور بیوی اور اس کی بیٹی کا انتقال ہوگیا ہے ، بڑا بھائی احسان اللہ کا انتقال بھی پہلے ہوچکا ہے اس کے دو بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور ایک بھائی عمران زندہ ہے ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس کے بھتیجے اور بھتیجوں کا میراث میں حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ میت کی تجہیز وتکفین ، قرض کی ادائیگی اور کل مال کے ایک تہائی میں وصیت نافذ کردینے کے بعد کل ترکہ بھائی کو عصبہ بننے کی وجہ سے ملے گی ، اور میت کے بھتیجے اور بھتیجیاں محروم ہوں گی ۔
القرأن الكريم : [النساء:/4 11]
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ .
السراجي :(١٦، ط: رحمانيه )
باب العصبات ... ثم جزء ابيه اي الاخوة ثم بنوهم .