احکام وراثت

بھائی کی میراث میں بھتیجوں کا حصہ

فتوی نمبر :
1932
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بھائی کی میراث میں بھتیجوں کا حصہ

السلام علیکم !
ایک ایکسیڈنٹ ہوا ، جس میں عدنان اور بیوی اور اس کی بیٹی کا انتقال ہوگیا ہے ، بڑا بھائی احسان اللہ کا انتقال بھی پہلے ہوچکا ہے اس کے دو بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور ایک بھائی عمران زندہ ہے ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس کے بھتیجے اور بھتیجوں کا میراث میں حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ میت کی تجہیز وتکفین ، قرض کی ادائیگی اور کل مال کے ایک تہائی میں وصیت نافذ کردینے کے بعد کل ترکہ بھائی کو عصبہ بننے کی وجہ سے ملے گی ، اور میت کے بھتیجے اور بھتیجیاں محروم ہوں گی ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم : [النساء:/4 11]
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ .

السراجي :(١٦، ط: رحمانيه )
باب العصبات ... ثم جزء ابيه اي الاخوة ثم بنوهم .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 1932کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --