احکام وراثت

بیوہ،تین بیٹیوں اور ایک بیٹے میں میراث کی تقسیم

فتوی نمبر :
1024
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بیوہ،تین بیٹیوں اور ایک بیٹے میں میراث کی تقسیم

ایک مکان میراث میں ہے جس کی موجودہ مالیت تقریباً 70 سے 80 لاکھ ہے ورثاء کی تعداد پانچ ہے:مرحوم کی بیوی، تین شادی شدہ بیٹیاں اور ایک شادی شدہ بیٹا۔
اس صورت میں میراث کی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین اور قرض کی ادائیگی کے بعد اور تہائی مال سے وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل مال کو چالیس(40) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے پانچ (5) حصے بیوہ (میت کی بیوی) کو ملیں گے اور باقی پینتیس (35) حصے بچوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔ہرلڑکے کو چودہ (14) اور ہر لڑکی کو سات (7) حصے دیے جائیں گے۔ اس تقسیم کی رو سے اسی لاکھ(80,00000)میں سے میت کی بیوی کو دس لاکھ (10,00000) روپے اور ہر لڑکی کو چودہ لاکھ (14,00000) روپے اور لڑکے کو اٹھائیس لاکھ (28,00000) روپے دیے جائیں گے ۔

حوالہ جات

*القران الکریم:(4/ 11)*
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ

*الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر)*
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.

*السراجي في الميراث:(ص:18،ط:البشرى)*
اما للزوجات فحالتان: الربع للواحده فصاعدا عند عدم الولد وولد الابن وان سفل ،والثمن مع الولد او ولد الابن وان سفل.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
55
فتوی نمبر 1024کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --