ایک صحابی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا نے مجھ سے پیٹھ پھیر لی۔ فرمایا: کیا وہ تسبیح تمہیں یاد نہیں؟ جو تسبیح ہے ملائکہ کی اور جس کی برکت سے روزی دی جاتی ہے۔ دنیا آئے گی تیرے پاس ذلیل و خوار ہو کر طلوع فجر کے ساتھ سو بار کہا کر
سبحن اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَنَ اللهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ اسْتَغْفِرُ الله.
ان صحابی کو سات دن گزرے تھے کہ خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی "حضور دنیا میرے پاس اس کثرت سے آئی، میں حیران ہوں کہاں اٹھاؤں کہاں رکھوں۔"
سوال میں ذکرکردہ روایت ’’منکر‘‘ہے،اس کو بیان کرنے اور اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کرنے سے اجتناب کیاجائے، البتہ حدیث میں ذکرکردہ تسبیح کی فضیلت دوسری صحیح روایات سے ثابت ہے، لہذا مذکورہ روایت کے کلماتِ تسبیح صبح کے وقت پڑھے جاسکتے ہیں۔
ذیل میں اس روایت کاترجمہ،تخریج اور اسنادی حیثیت ذکر کی جاتی ہے:
ترجمہ:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے فقر یا قرض یا کسی حاجت کی شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:’’تو فرشتوں کی نماز اور مخلوقات کے تسبیح کے عمل سے کہاں ہے؟ جس کے ذریعے اللہ آسمان سے رزق نازل فرماتا ہے۔‘‘ابن عمرؓ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟تو رسول اللہ ﷺ اپنی ٹیک سے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا:
"اے ابن عمر! جب فجر طلوع ہو اور نمازِ صبح تک (یہ پڑھا کرو):سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم، وأستغفر الله (اللہ پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، اللہ بہت بڑا ہے اور میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں) سو مرتبہ۔
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا تیرے پاس ذلت کے ساتھ، بھری پڑی (یعنی رغبت اور کثرت کے ساتھ) آئے گی، اور اللہ عزوجل تیرے ہر ایک کلمہ پر ایک فرشتہ پیدا فرمائے گا، جو تیرے لیے قیامت تک تسبیح کرتا رہے گا اور اس کا ثواب تجھے ملتا رہے گا۔‘‘
*تخریج:*
۱۔سوال میں ذکرکردہ روایت کو امام ابن حبان(م۳۵۴ھ)نے’’المجروحين‘‘(1/148،الرقم:62،ط:دار الصميعی)میں نقل کیا ہے۔
2۔حافظ ابن عدی (م۳۶۵ھ)نے’’الکامل‘‘(1/558،الرقم:173،ط:دارالكتب العلمية) میں نقل کیا ہے۔
3۔امام دارقطنی(م۳۸۵ھ)نے’’الرواة عن مالك‘‘میں نقل کیا ہے جیسا کہ حافظ ابن حجرعسقلانی(م۸۵۲ھ)نے’’لسان المیزان‘‘(5/133،الرقم:4694،ط:مكتب المطبوعات الإسلامية)میں نقل کیا ہے۔
4۔حافظ ابن بشران(م430ھ)نے’’الأمالی‘‘(1/251،رقم الحدیث:576،ط:دارالوطن)میں نقل کیا ہے۔
5۔ خطیب بغدادی رحمہ اللہ (م۴۶۳ھ)نےاپنی کتاب ’’الرواۃ عن مالک‘‘اپنی سند سےنقل کیا ہے، اگرچہ یہ کتاب مستقل طور پر محفوظ نہیں رہی، تاہم اس کا اختصار ابو الحسین رشید الدین القرشی المعروف بہ رشید عطار رحمہ اللہ (م 662ھ) نے ’’مجرد أسماء الرواة عن مالك‘‘کے عنوان سے کیا ہے۔اس میں ’’عبد الله بن نافع الجمحي المدني قراب‘‘ کےتذکرے میں(ص: 82،الرقم:391، ط: مكتبة الغرباء الأثرية) پر نقل کیا ہے۔
۶۔امام دیلمی(م509ھ) نے’’مسند الفردوس‘‘(2/389،رقم الحدیث:3731،ط:دارالکتب العلمیۃ)میں نقل کیا ہے۔
۷۔ شیخ علی بن الحسن عبدی(م۵۹۹ھ)نے’’جزء العبدي‘‘(ص:17،رقم الحدیث:16)میں نقل کیا ہے۔
*مذکورہ روایت کی اسنادی حیثیت:*
امام ابن حبان نے اس روایت کو ’’اسحاق بن ابراہیم الطبری‘‘ کے طریق سے نقل کیا ہے۔امام ابن حبان ان کے تعارف میں لکھتے ہیں:’’ منكر الحديث جدًّا، يأتي عن الثقات الأشياء الموضوعات، لا يحل كتابة حديثه إلا على جهة التعجب.‘‘’’یہ بہت انوکھی قسم کی روایات نقل کرنے والے، معتبر راویوں کی طرف منسوب کر کے من گھڑت روایات نقل کرتے ہیں، ان سے صرف حیرت کے اظہار کے لیے روایت نقل ہو سکتی ہے" (یعنی حوالہ کے طور پر ان کی روایت نقل کرنا ممنوع ہے)۔‘‘
پھر اس حدیث کو نقل کرنے کے بعدفرماتے ہیں:’’فلا أصل له بجملة ولا أشك أنه موضوع على مالك‘‘’’اس کی کوئی اصل بالکل نہیں ہے، اور مجھے کوئی شک نہیں کہ یہ امام مالکؒ پر گھڑا گیا ہے۔‘‘
حافظ ابن عدی نےاس روایت کو ’’اسحاق بن ابراہیم الطبری‘‘کی طریق سے نقل کیا ہے ،ان کے بارے میں لکھتے ہیں:’’منکر الحدیث‘‘ اور اس روایت کو لکھنے کے بعد فرماتے ہیں:’’وهذا حديث بهذا الإسناد باطل عن مالك.‘‘’’اوریہ حدیث اس سند کے ساتھ امام مالکؒ سے باطل (جھوٹی) ہے۔‘‘
امام دارقطنی نے اس روایت کو’’عبد الرحمن بن محمد اليحمدي‘‘کی طریق سے نقل کیا ہے ،جن کے بارے میں حافظ ابن حجرفرماتے ہیں:شیخ مجہول ہے۔
امام دارقطنی اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:’’لا يصح عن مالك ولا أظن إسحاق لقي مالكا. وقد رواه جماعة بأسانيد كلها ضعاف.‘‘’’یہ امام مالکؒ سے صحیح ثابت نہیں ہے، اور میرا گمان ہے کہ اسحاق کی امام مالکؒ سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ اور اسے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے مگر ان سب کی سندیں ضعیف ہیں۔‘‘
علامہ ابن الجوزی(م۵۹۷)،حافظ ذہبی(م۷۴۸ھ)اور علامہ سیوطی(م۹۱۱ھ)نے اس روایت کو موضوع قراردیا ہے۔
حافظ عراقی (م۸۰۶ھ)لکھتے ہیں:’’أخرجه المستغفري في الدعوات من حديث ابن عمر وقال غريب من حديث مالك ولا أعرف له أصلا في حديث مالك. ولأحمد من حديث عبد الله بن عمرو» أن نوحا قال لابنه آمرك بلا إله إلا الله … الحديث «ثم قال» وسبحان الله وبحمده فإنها صلاة كل شيء وبها يرزق الخلق"، إسناده صحيح. ‘‘’’اسے مستغفری نے اپنی کتاب الدعوات میں ابن عمرؓ کی حدیث کے طور پر روایت کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ امام مالکؒ کی روایت میں غریب ہے، اور مجھے امام مالکؒ کی روایت میں اس کی کوئی اصل معلوم نہیں۔امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ کی حدیث روایت کی ہے کہ نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا: میں تجھے لا إله إلا الله (کا حکم دیتا ہوں) … (پوری حدیث ہے)، پھر فرمایا: اور سبحان الله وبحمده (یعنی اللہ کی پاکی اور اس کی حمد کے ساتھ)، بے شک یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے ۔‘‘
علامہ ابن عرق کنانی(م963ھ)نےعلامہ ابن الجوزی اور علامہ سیوطی کا کلام نقل کرنے فرمایا:’’یہ حدیث ضعیف ہے،موضوع نہیں۔
*خلاصۂ کلام:*
سوال میں ذکرکردہ روایت کو اکثر محدثین کرام رحمہم اللہ نے موضوع(من گھڑت)قراردیا،اگرچہ بعض حضرات نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے، لہذامذکورہ روایت کو فضائل کے باب میں بیان نہیں کیا جاسکتا، تاہم چونکہ یہ مضمون صحیح روایات سے ثابت ہے کہ اس تسبیح کی برکت سے اللہ تعالی مخلوقات کو رزق دیتے ہیں، لہذا مذکورہ روایت کے کلماتِ تسبیح صبح کے وقت پڑھے جاسکتے ہیں۔
البتہ اس روایت کو بیان کرنے اور جناب رسول اللہﷺ کی طرف نسبت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
*المجروحين لابن حبان :(1/148،الرقم:62،ط:دار الصميعی)*
روى عن عبد الله بن الوليد العدني عن مالك بن أنس عن نافع عن بن عمر قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فشكا إليه فقرا أو دينا في حاجة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم فأين أنت من صلاة الملائكة وتسبيح الخلائق وبها ينزل الله الرزق من السماء قال بن عمر فقلت وما ذاك يا رسول الله قال فاستوى رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعدا وكان متكئا فقال يا بن عمر تقول من طلوع الفجر إلى صلاة الصبح سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم واستغفر الله مائة مرة تأتيك الدنيا راغمة ذاخرة ويخلق الله عز وجل من كل كلمة تقولها ملكا يسبح له لك ثوابه إلى يوم القيامة.
أخرجه ابن حبان في "المجروحين"(1/148)(62) وابن عدي في "الكامل"(1/558)(173) والدارقطني في "الرواة عن مالك" كما في "اللسان"(5/133)(4694) وابن بشران في "الأمالي"(1/558)(173) والخطيب في "الرواة عن مالك" كما ذكره الرشيد العطار في "مجرد أسماء الرواة عن مالك"(82)(391).
هذا الحديث أخرجه ابن حبان في"المجروحين"(1/148)(62) من طريق إسحاق بن إبراهيم الطبري وقال: منكر الحديث جدًّا، يأتي عن الثقات الأشياء الموضوعات، لا يحل كتابة حديثه إلا على جهة التعجب. وقال ابن حِبّان -بعد إخراجه-: موضوع لا أصل له. و اخرجه ابن عدي في "الكامل"(1/558)(173)وقال: ’’وهذا حديث بهذا الإسناد باطل عن مالك.‘‘
وقال الدّارَقُطْنِيّ -بعد إخراجه-: "لا يصح عن مالك ولا أظن إسحاق لقي مالكا. وقد رواه جماعة بأسانيد كلها ضعاف. کمافی "اللسان"(5/133)(4694)
ذكره ابن الجوزي في "الموضوعات"(3/164)وقال: هذا حديث لا يصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.و أقره الذهبي في "التلخيص"(312)(748) وقال العراقي في "تخريج أحاديث الإحياء":(354): "أخرجه المستغفري في "الدعوات"، من حديث ابن عمر، وقال غريب من حديث مالك ولا أعرف له أصلا في حديث مالك ولأحمد من حديث عبد الله بن عمرو» أن نوحا قال لابنه آمرك بلا إله إلا الله … الحديث «ثم قال» وسبحان الله وبحمده فإنها صلاة كل شيء وبها يرزق الخلق"، إسناده صحيح".
وأشار السيوطي في "اللآلئ":(2/ 287)، إلى وضعه؛ وأورده ابن عَرّاق في "تنزيه الشريعة":(2/ 318)، وقال: قلت: قال الحافظ ابن حجر في لسان الميزان: أخرجه الدارقطني في الرواة عن مالك من طريق إسحاق بن إبراهيم الطبري، وقال: لا يصح عن مالك ولا أظن إسحاق لقي مالكا وقد رواه جماعة بأسانيد كلها ضعاف، ثم أخرجه من وجه آخر عن إسحاق بن إبراهيم المذكور عن عبد الله بن الوليد العدني عن مالك وأخرجه من طريق إبراهيم ابن جعفر بن أحمد بن أيوب عن أحمد بن حرب عن عبد الله بن الوليد ثم ذكر أنه روى عن عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد عن مالك بزيادة، انتهى، وقضيته أن هذا الحديث ضعيف لا موضوع، وقال الحافظ العراقي في تخريج الإحياء أخرجه المستغفري في الدعوات وقال غريب من حديث مالك ولا أعرف له أصلا في حديث مالك، ولأحمد من حديث عبد الله بن عمرو، إن نوحا قال لابنه آمرك بلا إله إلا الله الحديث ثم قال: وبسبحان الله وبحمده فإنها صلاة كل شيء وبها يرزق الخلق؛ وإسناده صحيح انتهى، وكأنه أورد حديث أحمد شاهدا للحديث والله تعالى أعلم.