تحقیق و تخریج حدیث

مسواک پاس ہونے کی صورت میں ایکسیڈنٹ میں ہڈی کا نہ ٹوٹنے سے متعلق حدیث اور فرض ادا کرنے کے بعد جگہ بدل کرسنتیں اورنوافل پڑھنے سے متعلق حدیث

فتوی نمبر :
1757
قرآن و حدیث / تحقیق و تخریج حدیث / تحقیق و تخریج حدیث

مسواک پاس ہونے کی صورت میں ایکسیڈنٹ میں ہڈی کا نہ ٹوٹنے سے متعلق حدیث اور فرض ادا کرنے کے بعد جگہ بدل کرسنتیں اورنوافل پڑھنے سے متعلق حدیث

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا یہ حدیث شریف ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص کے پاس مسواک ہو تو اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس کی ہڈی نہیں ٹوٹتی کیا یہ حدیث سے ثابت ہے یا نہیں
اگر حدیث ہے تو اس کی کیا صورت ہو سکتی ہے میرا ایک دوست ہے اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اس میں اسکی ہڈی ٹوٹ گئی تھی حالانکہ اس کے جیب میں مسواک تھا
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ بھی حدیث ہے کہ ایک جگہ پر اگر نماز پڑھ لی جائے تو اس جگہ سے تھوڑا سا ہٹ کر دوسری جگہ پر دوسری نماز شروع کی جائے مثلا اگر یہاں پر فرض پڑھیں تو تھوڑا سا ہٹ کر وہاں پر سنتیں پڑھی جائیں یا نوافل پڑھی جائے کیا یہ بات بھی حدیث سے ثابت ہے یا نہیں۔ جزاک اللہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔واضح رہے کہ مسواک ایک سنت عمل ہے، اس کے بہت سے طبی اور روحانی فوائد ہیں،لیکن یہ کہنا کہ’’ جس شخص کے پاس مسواک ہو تو اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس کی ہڈی نہیں ٹوٹتی۔‘‘ محض لوگوں کی بنائی ہوئی بات ہے۔کتب حدیث میں ایسی کوئی فضیلت موجود نہیں،لہذا اس کو بیان کرنے اوراس کی نسبت جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

۲۔واضح رہے کہ فرض نماز کی ادائیگی کے بعد سنت و نفل کی ادائیگی کے لیے جگہ بدل دینے سے متعلق کئی احادیث مروی ہیں،جن میں سے تین احاديث مبارکہ ذيل میں ذکر کی جاتی ہیں:
(۱)صحیح مسلم میں ہے کہ عمر بن عطاء بن ابی خوارکہتے ہیں کہ نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں سائب بن اخت نمر کی طرف کچھ ایسی باتوں کے بارے میں پوچھنے کےلیےبھیجا جو انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے نماز میں دیکھیں، سائب نے کہا کہ ہاں میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقصوره میں جمعہ پڑھا ہے، جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا کر فرمایا کہ تم دوبارہ ایسے نہ کرنا، جب جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اس کے ساتھ کوئی نماز نہ پڑھو جب تک کہ کوئی بات نہیں کرلو یا اس جگہ سے جب تک ہٹ نہ جاؤ، کیونکہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ایک نماز کے ساتھ دوسری نماز کو نہ ملائیں جب تک کہ ہم درمیان میں کوئی بات نہ کرلیں یا کوئی جگہ بدل نہ لیں۔
(۲)عبداللہ بن رباح ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتےے ہیں کہ ’’رسول اللہ ﷺنے عصر کی نماز پڑھی پھر اس کے بعد فوراً ایک آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا (پس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اُس کی چادر یا کپڑے کو پکڑا )پھر اُس سے کہا کہ بیٹھ جاؤ کیونکہ تم سے پہلے اہل کتاب ہلاک ہو گئے کیونکہ اُن لوگوں نے اپنی فرض اور نفل نمازوں میں فصل نہیں کیا۔ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اچھا کیا‘‘۔(مسنداحمد،حدیث نمبر:23121)
(۳) حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ امام جب نماز ختم کرکے دوسری نماز پڑھے تو جگہ بدل دے ۔
ان احادیث مبارکہ کی بناپر علمائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر فرض نماز کے بعد سنتوں کی ادائیگی کے لیے الگ جگہ (دائیں، بائیں یا آگے پیچھے ہوجانے )کی سہولت ہو تو سنتیں اور نوافل الگ جگہ پر پڑھنا مستحب ہے،لیکن اگر کوئی مجبوری ہوتو جس جگہ فرض ادا کیے ہیں، وہیں سنتیں اور نوافل بھی ادا کرسکتے ہیں، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔

حوالہ جات

*صحيح مسلم:(3/ 17،رقم الحديث:73 - (883)،ط:دارطوق النجاة)*
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ، حدثنا غندر ، عن ابن جريج قال: أخبرني عمر بن عطاء بن أبي الخوار، « أن نافع بن جبير أرسله إلى السائب ابن أخت نمر يسأله عن شيء رآه منه معاوية في الصلاة. فقال: نعم. صليت معه الجمعة في المقصورة. فلما سلم الإمام قمت في مقامي. فصليت. فلما دخل أرسل إلي فقال: لا تعد لما فعلت. إذا صليت الجمعة فلا تصلها بصلاة حتى تكلم أو تخرج. فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرنا بذلك. أن ‌لا ‌توصل صلاة حتى نتكلم أو نخرج .

*مسند أحمد:(38/ 202 ،رقم الحديث:23121،ط:مؤسسة الرسالة)*
حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الأزرق بن قيس، عن عبد الله بن رباح، عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى العصر، فقام رجل يصلي فرآه عمر، فقال له: اجلس، فإنما هلك أهل الكتاب أنه لم يكن لصلاتهم فصل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أحسن ابن الخطاب ".

*سنن أبي داود:(1/ 461 ،رقم الحديث:616،ط:دار الرسالة العالمية)*
حدثنا أبو توبة الربيع بن نافع، حدثنا عبد العزيز بن عبد الملك القرشي، حدثنا عطاء الخراساني عن المغيرة بن شعبة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يصل الإمام في الموضع الذي صلى فيه حتى يتحول".

*شرح النووي على مسلم:(6/ 170،ط: دار إحياء التراث العربي)*
فيه دليل لما قاله أصحابنا ‌أن ‌النافلة ‌الراتبة ‌وغيرها ‌يستحب أن يتحول لها عن موضع الفريضة إلى موضع آخر وأفضله التحول إلى بيته وإلا فموضع آخر من المسجد أو غيره ليكثر مواضع سجوده ولتنفصل صورة النافلة عن صورة الفريضة وقوله حتى نتكلم دليل على أن الفصل بينهما يحصل بالكلام أيضا ولكن بالانتقال أفضل لما ذكرناه والله أعلم.

*بدائع الصنائع : (1/ 160،ط:دار الكتب العلمية)*
(‌وإن) ‌كانت ‌صلاة ‌بعدها ‌سنة ‌يكره ‌له ‌المكث ‌قاعدا، وكراهة القعود مروية عن الصحابة رضي الله عنهم روي عن أبي بكر وعمر رضي الله عنهما أنهما كانا إذا فرغا من الصلاة قاما كأنهما على الرضف؛ ولأن المكث يوجب اشتباه الأمر على الداخل فلا يمكث ولكن يقوم ويتنحى عن ذلك المكان ثم ينتقل، لما روي عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «أيعجز أحدكم إذا فرغ من صلاته أن يتقدم أو يتأخر» ، وعن ابن عمر رضي الله عنه أنه كره للإمام أن يتنفل في المكان الذي أم فيه؛ ولأن ذلك يؤدي إلى اشتباه الأمر على الداخل فينبغي أن يتنحى إزالة للاشتباه، أو استكثارا من شهوده على ما روي أن مكان المصلي يشهد له يوم القيامة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
43
فتوی نمبر 1757کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --