طلاق معلقہ

”اگر میں نے اس دوسری بیوی کے ساتھ تیسری شادی نہیں کی تو مجھ پر یہ دوسری بیوی طلاق ہوگی۔“کہنے کا حکم

فتوی نمبر :
913
معاملات / احکام طلاق / طلاق معلقہ

”اگر میں نے اس دوسری بیوی کے ساتھ تیسری شادی نہیں کی تو مجھ پر یہ دوسری بیوی طلاق ہوگی۔“کہنے کا حکم

ایک شخص نے شادی کی تھی اختلافات کیوجہ سے بیوی چلی گئی اس شخص نے دوسری شادی کی پر اسکو کسی نے کہا کہ تم نے دوسری شادی کی پہلی والی نھیں رکھ سکتے اس نے جواب میں کہا کہ اگر میں نے اس دوسری بیوی کیساتھ ایک اور یعنی تیسری شادی نھیں کی تو مجھ پر یہ دوسری بیوی طلاق ھوگی
اب اگر یہ شخص تیسری شادی نھیں کرے گا تو کیا اسکی طلاق ھو جائے گی ؟ ساتھ میں شرط بھی ھے
برائے کرم تسلی بخش رھنمائی فرمائیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں جب اس شخص نے کہا:”اگر میں نے اس دوسری بیوی کے ساتھ تیسری شادی نہیں کی تو مجھ پر یہ دوسری بیوی طلاق ہوگی۔“ تو اس سے فوری طور پر طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ اگر وہ شخص پوری زندگی تیسری شادی کیے بغیر ہی فوت ہو جائے تو اس کے مرنے کے وقت شرط پوری ہونے کی وجہ سے دوسری بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی۔

حوالہ جات

الشامية:(269،ط:دارالفکر)
قوله وإن لم أطلقك) ذكرهم إن وإذا هنا بالتبعية وإلا فالمناسب لهما باب التعليق لا) تطلق بالسكوت بل يمتد النكاح (حتى يموت أحدهما قبله) أي قبل تطليقه فتطلق قبيل الموت لتحقق الشرط ويكون فارا

النهرالفائق:(341/2،ط:دار الكتب العلمية)
(وفي) أنت طالق (إن لم أطلقك وإذا لم أطلقك) هذه المسألة مع ما بعدها من التعليق لا الإضافة فذكرها فيه أنسب (أو إذا ما لم أطلقك لا)، يعني: لا تطلق (حتى يموت أحدهما) لأنه جعل الشرط عدم طلاقها ولن يتحقق ذلك إلا باليأس وذلك في آخر جزء من أجزاء حياته فتطلق قبيل الموت وهذا يقتضي التسوية بين موته وموتها وهو الأصح

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
50
فتوی نمبر 913کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --