طلاق معلقہ

اپنی بیوی کے طلاق کو بھائی سے بات کرنے پر معلق کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2153
معاملات / احکام طلاق / طلاق معلقہ

اپنی بیوی کے طلاق کو بھائی سے بات کرنے پر معلق کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو نے میرے بھائی یا بھابی سے بات کی تو تجھے طلاق ہے، اب یہ شخص اپنے غلطی پر نادم ہے اور صلح بھی کر لی ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ شوہر کا اپنے غلطی پر نادم ہونا اور صلح کر لینے کے بعد اب اگر یہ عورت اس کے بھائی یا بھابھی سے بات کرتی ہے تو کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں جب شوہر نے طلاق کو بھائی یا بھابی سے بات پر معلق کردیا ہے توجب بھی بیوی شوہر کے بھائی یا بھابی سے بات کرے گی طلاق واقع ہو جائے گی۔

حوالہ جات

الهندية: (1/ 428، ط: دارالفكر)
ولو قال لها: ‌إن ‌كلمت ‌فلانا فأنت طالق وقال لها أيضا: إن كلمت إنسانا فأنت طالق فكلم فلانا طلقت تطليقتين.

الموسوعة الفقهية الكويتية: (29/ 38، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية )
فإذا ‌حصل ‌الشرط ‌المعلق عليه وقع الطلاق، دون اشتراط الفور إلا أن ينويه، وإذا لم يحصل لم يقع، سواء في ذلك أن يكون الشرط المعلق عليه من فعل الحالف أو المحلوف عليها، أو غيرهما، أو لم يكن من فعل أحد، هذا إذا حصل الفعل المعلق عليه طائعا ذاكرا التعليق، فإن حصل منه الفعل المعلق عليه ناسيا أو مكرها وقع الطلاق به أيضا عند الجمهور.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
16
فتوی نمبر 2153کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --