کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو نے میرے بھائی یا بھابی سے بات کی تو تجھے طلاق ہے، اب یہ شخص اپنے غلطی پر نادم ہے اور صلح بھی کر لی ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ شوہر کا اپنے غلطی پر نادم ہونا اور صلح کر لینے کے بعد اب اگر یہ عورت اس کے بھائی یا بھابھی سے بات کرتی ہے تو کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
پوچھی گئی صورت میں جب شوہر نے طلاق کو بھائی یا بھابی سے بات پر معلق کردیا ہے توجب بھی بیوی شوہر کے بھائی یا بھابی سے بات کرے گی طلاق واقع ہو جائے گی۔
الهندية: (1/ 428، ط: دارالفكر)
ولو قال لها: إن كلمت فلانا فأنت طالق وقال لها أيضا: إن كلمت إنسانا فأنت طالق فكلم فلانا طلقت تطليقتين.
الموسوعة الفقهية الكويتية: (29/ 38، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية )
فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق، دون اشتراط الفور إلا أن ينويه، وإذا لم يحصل لم يقع، سواء في ذلك أن يكون الشرط المعلق عليه من فعل الحالف أو المحلوف عليها، أو غيرهما، أو لم يكن من فعل أحد، هذا إذا حصل الفعل المعلق عليه طائعا ذاكرا التعليق، فإن حصل منه الفعل المعلق عليه ناسيا أو مكرها وقع الطلاق به أيضا عند الجمهور.