کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ا س مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ اگر یہ سم تم نے استعما ل کی تو میری طرف تم فارغ ہو اس کے بعد شوہر اس سم کو توڑ دیتا ہے ، بعد میں بیوی اس سم کو دوبارہ نکلوا کر اسے استعمال کرتی ہے ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس سم کے استعمال سے عورت کو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ کیونکہ جس سم کے استعمال سے شوہر نے منع کردیا تھا اس کو تو شوہر نے توڑ دیا تھا البتہ بیوی نے وہی نمبر دوبارہ نکلوایا ہے ۔
واضح رہے کہ سم استعمال کرنے سے مراد اس نمبر کا استعمال ہوتا ہے ۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں شوہرنے جس سم کے استعمال کرنے سے منع کیا تھااور اسے اس نے خود توڑ بھی دیا تھا اسی نمبر کو دوبارہ نکلواکر استعمال کرنے سے شرط پوری ہوگئی ، اس لیے ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی ،کیونکہ” تم میری طرف سے فارغ ہو “ کے الفاظ کنایہ ہیں۔
اب اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہے ، تو نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا ۔
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: (9/ 6972، ط: دارالفكر)
فقال أئمة المذاهب الأربعة: يقع الطلاق المعلق متى وجد المعلق عليه، سواء أكان فعلاً لأحد الزوجين، أم كان أمراً سماوياً، وسواء أكان التعليق قسمياً: وهو الحث على فعل شيء أو تركه أو تأكيد الخبر، أم شرطياً يقصد به حصول الجزاء عند حصول الشرط.
الدرالمختار : (3/ 743، ط: دارالفكر)
باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان والركوب وغير ذلك الأصل أن الأيمان مبنية عند الشافعي على الحقيقة اللغوية، وعند مالك على الاستعمال القرآني، وعند أحمد على النية، وعندنا على العرف ما لم ينو ما يحتمله اللفظ فلا حنث في لا يهدم إلا بالنية فتح.
الشامية : (3/ 252، ط: دارالفكر)
وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية.