طلاق معلقہ

طلاق کا اختیار صرف شوہر کو ہے

فتوی نمبر :
1602
معاملات / احکام طلاق / طلاق معلقہ

طلاق کا اختیار صرف شوہر کو ہے

اگر کسی شخص نے اپنے بھائی سے کہا، اگر تم نے یہ کام کیا تو تمہاری بیوی کو طلاق ہو تو کیا صرف اس کے کہنے سے اس بھائی کی بیوی کو طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق کا حق صرف شوہر کو حاصل ہے، کسی اور کو نہیں، لہٰذا اگر شوہر کے بھائی نے یہ کہا کہ ’’اگر تم نے یہ کام کیا تو تمہاری بیوی کو طلاق‘‘اور شوہر نے اس بات پر کوئی جواب یا رضا مندی ظاہر نہیں کی تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

النهاية في شرح الهدايا:(4/8،ط:مركز الدراسات الإسلامية)
وأمّا ركنه: فهو هذه اللّفظ الصّادرة من الزوج.

تکملة حاشیةابن عابدين:(327/7،ط: دار الفكر)
فإن التعليق في غير الملك، والمضاف إليه صحيح موقوف على إجازة الزوج، حتى لو قال أجنبي لزوجة إنسان إن دخلت الدار فأنت طالق توقف على الإجازة، فإن أجازه لزم التعليق، فتطلق بالدخول بعد الإجازة لا قبلها، وكذا الطلاق المنجز من الأجنبي موقوف على إجازة الزوج فإذا أجازه وقع مقتصرا على وقت الإجازة، ولا يستند بخلاف البيع الموقوف فإنه بالإجازة يستند إلى وقت البيع، حتى ملك المشتري الزوائد المتصلة والمنفصلة.

البحر الرائق:(6/4،ط: دارالکتاب الاسلامي)
ثم اعلم أن المراد بالصحة في قوله إنما يصح اللزوم فإن التعليق في غير الملك، والمضاف إليه صحيح موقوف على إجازة الزوج حتى لو قال أجنبي لزوجة إنسان إن دخلت الدار فأنت طالق توقف على الإجازة فإن أجازه لزم التعليق فتطلق بالدخول بعد الإجازة لا قبلها، وكذا الطلاق المنجز من الأجنبي موقوف على إجازة الزوج فإذا أجازه وقع مقتصرا على وقت الإجازة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
42
فتوی نمبر 1602کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --