مفتی صاحب!
ایک آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا ، جھگڑے کے بعد شوہر نے کہا اور پشتو میں یہ الفاظ استعمال کیے"کہ اوبہ دی را نہ وڑی نو طلاق در کومہ"کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ؟
طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، طلاق صرف اس صورت میں واقع ہوتی ہے جب زبانی یا تحریری طور پر طلاق دی جائے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کے شوہر نے پشتو میں کہا کہ٫٫(کہ اوبہ دی را نہ وڑی نو طلاق در کومہ)٬٬ یعنی اگر پانی نہیں لائی تو طلاق دے دوں گا چونکہ طلاق کی دھمکی ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
*فتح القدير:(7/4،ط:دارالفکر)*
ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال.
*الشامية:(669/3، ط: دارالفكر)*
أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا.
*الهندية:(384/1،ط: دارالفکر)*
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال.