طلاق معلقہ

"کہ اوبہ دی را نہ وڑی نو طلاق در کومہ" کے الفاظ سے طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
2556
معاملات / احکام طلاق / طلاق معلقہ

"کہ اوبہ دی را نہ وڑی نو طلاق در کومہ" کے الفاظ سے طلاق کا حکم

مفتی صاحب!
ایک آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا ، جھگڑے کے بعد شوہر نے کہا اور پشتو میں یہ الفاظ استعمال کیے"کہ اوبہ دی را نہ وڑی نو طلاق در کومہ"کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، طلاق صرف اس صورت میں واقع ہوتی ہے جب زبانی یا تحریری طور پر طلاق دی جائے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کے شوہر نے پشتو میں کہا کہ٫٫(کہ اوبہ دی را نہ وڑی نو طلاق در کومہ)٬٬ یعنی اگر پانی نہیں لائی تو طلاق دے دوں گا چونکہ طلاق کی دھمکی ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

حوالہ جات

*فتح القدير:(7/4،ط:دارالفکر)*
ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال.

*الشامية:(669/3، ط: دارالفكر)*
أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا.

*الهندية:(384/1،ط: دارالفکر)*
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2556کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --