کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی نے اپنے بھائی سے کہا کہ اگر تم نے سودی کاروبار کیا تو میری بیوی کو طلاق۔ پھر اس کے بھائی نے اس سے چپ کر سودی کاروبار کیا۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس شخص کی بیوی کو طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
واضح رہے کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کر نے کی صورت میں اگر وہ شرط پائی جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں اس آدمی کے بیوی پر ایک طلاق واقع ہو گئی ہے۔
الموسوعة الفقهية الكويتية: (29/ 38، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية)
اتفق جمهور الفقهاء على صحة اليمين بالطلاق أو تعليق الطلاق على شرط مطلقا، إذا استوفى شروط التعليق الآتية: فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق .
الهندية: (1/ 369، ط: دارالفكر)
ولو قال إذا جاء فلان وإذا جاء فلان فأنت طالق لا يقع إلا بعد مجيئهما جميعا ولو قدم الجزاء فقال أنت طالق إذا جاء فلان وإذا جاء فلان فأيهما جاء طلقت وكذلك لو توسط الجزاء كذا في محيط السرخسي. ولا يقع بالثاني شيء إلا إذا نوى ذلك كذا في المحيط.