السلام عليكم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ سعید نے کہا ???????? سعید کے بیانات: میں نشے کا عادی تھا۔ ایک دن صبح دیکھا کہ کچھ لوگ فوجی کپڑوں اور اسلحے کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوئے، مجھے گرفتار کیا اور گاڑی میں بٹھا لیا، میں نے دیکھا کہ وہ مجھے زاہدان کی طرف لے جا رہے ہیں، راستے میں مجھ سے پوچھا: “شیرہ پیتے ہو؟” میں نے کہا: نہیں، میں تو تریاک اور بافوری (نشے والے اشیاء کا نام) پیتا ہوں۔ مجھے شک ہوا کہ یہ لوگ شاید کسی منشیات کے علاج کے کیمپ کے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم بھی تمہاری طرح پہلے نشے کے عادی تھے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ لوگ کیمپ کے ہی لوگ ہیں۔ میں نے کہا: مجھے کیمپ مت لے جاؤ، میری اپنی عزت اور شخصیت ہے۔ میں نے بہت منت کی مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ غصے اور پریشانی میں، میں نے کہا: "اگر تم مجھے کیمپ لے گئے تو میری بیویاں میرے لیے ایک سو تیس دفعہ طلاق ہوں!" یہ بات کہہ کر میں نے ان سے کہا کہ کیمپ کے رئیس کو کال کریں اور بتائیں کہ سعید نے ایسی بات کی ہے، مگر کسی نے میری بات کی پرواہ نہیں کی۔ آخر میں میں نے کہا: “میں نے شرط لگائی ہے، اس لیے مجھے کسی گھر لے جاؤ، تمام خرچہ میں دوں گا۔” انہوں نے کہا ٹھیک ہے، تمہیں گھر لے چلتے ہیں۔ تقریباً ساٹھ کلومیٹر زاہدان (شہر کا نام) رہ گیا تھا، راستے میں دو بار گاڑی رکی۔ عصر کے قریب ہم زاہدان پہنچ گئے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ شاید وہ مجھے کیمپ نہیں لے جا رہے۔ ہم فاضلی روڈ پہنچے جہاں بہت سی گاڑیوں کی نمائش گاہیں تھیں، وہاں اکثر لوگ مجھے جانتے تھے۔ میں نے پوچھا: گھر کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: یہی ہے۔ گاڑی ایک شو روم کے پاس روک دی گئی۔ اترنے سے پہلے میں نے ان سے ایک رومال لیا اپنے سر اور چہرے کو ڈھانپ لیا تاکہ مجھے کوئی پہچان نہ لے۔ گاڑی رکتے ہی میں اکیلا اترا اور شو روم کے دروازے سے اوپر دوسری منزل (جہاں کیمپ تھا) چلا گیا۔ (اور اگر خود نہ جاتا تو وہ کیمپ والے اس کو زبردستی لے جاتے) اوپر ایک فرنشڈ سویٹ تھا۔ میں وہاں بیٹھ گیا اور پوچھا: منقل (اس چیز کا نام جس کی اوپر کوئلے رکھ کر نشہ کرتے ہیں) اور کوئلے کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: “یہ کیمپ کا دفتر ہے۔” یہ سن کر مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے لڑائی کی کہ میں نے تو کہا تھا کہ مجھے گھر لے جاؤ! انہوں نے کہا: “ہم نے فلان مفتی سے پوچھا ہے، نشے کے عادی کا طلاق دینا واقع نہیں ہوتا۔” یہ سن کر میں پرسکون ہو گیا۔ بیس دن بعد میں وہاں (کیمپ) سے باہر آیا۔ اب آپ بتائیں: جو شرط میں نے کہی تھی، کیا اس سے میری بیویوں کی طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ مذکورہ سوال کا مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں جزاکم اللہ خیرا
ہر عاقل اور بالغ شخص کی طلاق شرعاً واقع ہو جاتی ہے، اس لیےاگر کوئی شخص نشے کی حالت میں بیوی کو طلاق دے تو وہ طلاق بھی شرعاً واقع ہو جاتی ہے، چاہے نشہ اترنے کے بعد اسے یاد نہ رہے، یا وہ مکر جائے۔ واضح رہے کہ جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کو کیمپ لے جایا گیا، لہذا شرط پائے جانے کی وجہ سے آپ کی بیویوں پر تین طلاقیں واقع ہو کر نکاح ختم ہوگیا اور باقی طلاقیں لغو ہو گئیں۔ تین طلاقیں واقع ہونے کی صورت میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق نہیں رہتا اور نہ ہی عدت کے بعد وہ دونوں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، جب تک عورت کسی اور مرد سے نکاح نہ کرے اور اس کے ساتھ حقوقِ زوجیت ادا نہ کرے، پھر اگر دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے یا وہ وفات پا جائے اور اس کی عدت مکمل ہو جائے تو اس کے بعد عورت اور پہلا شوہر دونوں کی رضا مندی سے، نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں، دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔
*الشامية:(3/ 235،ط دارالفكر)* (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح. *ایضاً:(3/ 239،ط:دارالفکر*) وبين في التحرير حكمه أنه إن كان سكره بطريق محرم لا يبطل تكليفه فتلزمه الأحكام وتصح عبارته من الطلاق والعتاق. *الهنديه:(1/ 353،ط:دارالفكر)* «وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط. *فتح القدير للكمال ابن همام:(489/3،ط: دارالفكر)* قوله وطلاق السكران واقع) وكذا عتاقه وخلعه، وهو من لا يعرف الرجل من المرأة ولا السماء من الأرض، ولو كان معه من العقل ما يقوم به التكليف فهو كالصاحي. *الهندية:(380/1،ط: دارالفكر)* رجل قال لامرأته هزار طلاق ترا وقع الثلاث رجل قال لامرأته في حال مذاكرة الطلاق هزار طلاق بدامنت دركردم طلقت ثلاثا ولو قال ما نويت به إيقاع الطلاق فالقول قوله مع يمينه رجل قال لامرأته تو سه طلاق باش إن نوى إيقاع الثلاث يقع وإلا فلا كذا في الظهيرية.