احکام وراثت

والد کی زندگی میں فوت ہونے والے بیٹے کی بیوی اوربچوں کا حصہ

فتوی نمبر :
2395
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والد کی زندگی میں فوت ہونے والے بیٹے کی بیوی اوربچوں کا حصہ

استفتاء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بخدمت جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب!
ایک شرعی مسئلے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے:
میرا ایک بیٹا عبدالباسط تھا، جس کا حال ہی میں انتقال ہو چکا ہے۔ مرحوم کے ورثا کی تفصیل یہ ہے کہ:
مرحوم کی دو شادیاں ہوئیں:
پہلی بیوی سے ایک بیٹی ہے اور وہ بیوی طلاق یافتہ ہے۔
دوسری بیوی (جو اس وقت بیوہ ہے) سے ایک بیٹی ہے۔
مرحوم کے والدین (یعنی میں اور میری اہلیہ) حیات ہیں۔
مرحوم عبدالباسط کے پاس ذاتی ملکیت میں جائیداد، کاروبار یا اثاثے نہیں تھے۔ موجودہ گھر جس میں ہم رہتے ہیں میری اہلیہ کی ملکیت ہے۔ اس کے علاوہ کاروبار، نقدی اور دیگر تمام املاک میری ذاتی ملکیت ہیں، جن پر قبضہ، تصرف اور آمدن ہمیشہ سے میرے ہی اختیار میں رہی ہے۔
البتہ ایک دکان ایسی ہے جسے میں نے اپنی زندگی میں محض کاغذی کارروائی کی حد تک اپنے تین بیٹوں میں سےدو (بڑے بیٹے عمیر اور مرحوم عبدالباسط) کے نام پر لکھوا دیا تھا، لیکن اس دکان پر بھی قبضہ، تصرف، انتظام اور آمدن آج تک میرے ہی پاس ہے، عملی طور پر میرے بیٹے اس کاروبار اور دوکان میں فقط میرے مددگار اور معاون رہے ہیں۔
اب دریافت یہ کرنا ہے کہ:
کیا اس صورت میں مرحوم عبدالباسط کی بیوہ اور دونوں بیٹیاں میری ذاتی جائیداد (گھر، کاروبار اور دیگر املاک) میں شرعاً وارث بنتی ہیں یا نہیں؟
مذکورہ دکان جو صرف کاغذی طور پر بیٹوں کے نام ہے لیکن قبضہ و تصرف میرے پاس رہا، کیا وہ شرعاً میری ہی ملکیت شمار ہوگی یا مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوگی؟
مرحوم کی بیوہ اور بیٹیوں کا میری جائیداد میں کوئی شرعی حق بنتا ہے؟
مزید یہ بھی بتائیں کہ:
کیا مرحوم کی بیوہ اور دونوں بیٹیوں کا نفقہ، رہائش یا دیگر اخراجات شرعاً مجھ پر لازم ہیں یا نہیں؟
اگر یہ اخراجات مجھ پر واجب نہیں، اور میں حسنِ سلوک، صلہ رحمی کے طور پر ان پر خرچ کرنا چاہوں تو
ایسی صورت میں خرچ کرنے کی کوئی شرعی مقدار متعین اور لازم ہے یا میں اپنی استطاعت اور مناسب مصلحت کے مطابق جتنا چاہے خرچ کر سکتا ہوں؟براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرما دیں، جزاکم اللہ خیرا ۔والسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1)واضح رہے کہ میت کے ترکہ کا مستحق وہی وارث ہوتا ہے، جو میت کے انتقال کے وقت زندہ ہو، جو وارث مورث کی زندگی میں ہی انتقال کر جائے، وہ خود مستحق ہوتا ہے، نہ اُس کی اولاد۔
2) کسی بھی چیز کی ملکیت انسان کو اس وقت حاصل ہوتی ہے، جب وہ اس چیز کی قیمت ادا کرے یا کوئی اسے وہ ہدیہ کرے یا وراثت میں ملے، محض کاغذات میں نام لکھنے کی وجہ سے ملکیت حاصل نہیں ہوتی، جب تک اس چیز پر قبضہ نہ کرلیا جائے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کا بیٹا آپ کی زندگی میں فوت ہو گیا ہے اور ساری جائیداد کے مالک بھی آپ ہیں ، لہذا آپ کا بیٹا خود میراث کا حقدار نہیں تو اس کی اولاد اور بیوی بھی میراث کے حقدار نہیں ہوں گے، البتہ اگر آپ چاہیں تو اپنی زندگی میں انہیں ہبہ (تحفہ) دے سکتے ہیں، یا وفات کے بعد کے لیے ایک تہائی مال کی ان کے حق میں وصیت کرسکتے ہیں۔
نیز اگر آپ ان پر خرچ کریں یا مالی مدد کریں تو یہ محض تبرع اور احسان ہوگا، آپ پر شرعاً کوئی متعین مقدار لازم نہیں، نہ ہی کسی خاص حد تک خرچ کرنا ضروری ہے، بلکہ جتنا چاہے اپنی خوشی سے خرچ کرے، یہ آپ کا حسنِ سلوک اور اجر کا باعث ہوگا۔

حوالہ جات

صحیح مسلم:(رقم الحدیث:3(1615)،ط: دار طوق النجاۃ)*
عن ابن عباس ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « ‌ألحقوا ‌الفرائض بأهلها، فما تركت الفرائض فلأولى رجل ذكر ».

*السراجی:(53-54،ط:البشری)*
وھم أربعۃ أصناف جزء المیت ،وأصلہ ،وجزءأبیہ وجزء جدہ.ألأقرب فالأقرب یرجحون بقرب الدرجۃ أعنی أولاھم بالمیراث جزءالمیت أی البنون ثم بنوھم وان سفلو.

*تكملة فتح الملهم:(19/2،ط:داراحياء التراث العربي)*
أن الحفيد لا يرث مع الابن، لأن الابن عند وجوده أولى رجل ذكر، فيحوز المال، ويحرم الحفيد لكونه أبعد بالنسبة إليه. وهذا ما أجمعت عليه الأمة الإسلامية منذ القرون الأولى، لم يختلف فيه أحد من الفقهاء، حتى ظهرت في بلادنا طائفة مستغربة تحكم رأيها في جميع مسائل الشريعة، فشذت عن الأمة في كثير من المسائل منها هذه المسألة، فقالت : إن الحفيد إنما يحرم من الميراث عند وجود أبيه، لا عند وجود أعمامه، فيرث الحفيد اليتيم، وإن كان معه أبناء الميت الآخرون غير والد ذلك الحفيد ويكون في ذلك قائماً مقام أبيه . واستدلوا على ذلك بقوله تعالى : ﴿ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ) [سورة النساء، الآية : (۱۱) قالوا : إن لفظ : (الأولاد) يشمل الأحفاد أيضاً، ولذلك يرث الأحفاد بهذه الآية عند عدم الأبناء فينبغي أن يراد بها كل حفيد لا يحجبه أبوه. وإن دليلهم هذا ينبيء عن جهلهم بأصول الفقه. وذلك أن (الولد) يراد به الابن حقيقة، والحفيد مجازاً، وتقرر في أصول الفقه أن الجمع بين الحقيقة والمجاز في وقت واحد لا يجوز، فلا يراد به (الابن) والحفيد) في قوت واحد، وإلا لزم أن يدخل في هذه الكلمات جميع الأحفاد وأحفادهم عند وجود أبناء الصلب، ويشاركوهم في الميراث، وهذا لا تقول به تلك الطائفة أيضاً .

*تكملة حاشية إبن عابدين:(349/7،ط: دارالفكر)*
وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة، أو تقديرا كالحمل والعلم بجهل إرثه.

*الشامية:(690/5،ط: دارالفكر)*
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها
أقول: قوله: جعلته باسمك، غير صحيح كما مر فكيف يكون ما هو أدنى رتبة منه أقرب إلى الصحة سائحاني.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2395کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --