کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص فوت ہوا ہے اور اس کے ورثہ میں اس کی بیوی اور اس کا والد ہے ۔
پوچھنا یہ ہے کہ میراث کیسی تقسیم ہوگی ؟
واضح رہے کہ میت کی تجہیز و تکفین ،قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی میں وصیت نافذ کر نے کے بعدبقیہ کل مال کے چار(4)حصے کیے جائیں گے، جن میں سے مرحوم کی زوجہ کو ایک (1)،اور اس کے والد کو تین(3) حصے میں ملیں گے۔
القرأن الكريم : [النساء:/4 12]
وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ