کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے ورثہ میں سے ایک بیٹی دو بیٹے اور ایک مرحوم کی بیوی ہیں اور ترکہ میں 50 لاکھ روپے نقد اور ایک پلاٹ (جس کی قیمت 70 لاکھ روپے ہے) ہے ۔
پوچھنا یہ ہے کہ یہ میراث کس طرح سے تقسیم ہوگی ؟اور ہر ایک کو کتنا کتنا حصہ ملے گا ؟
واضح رہے کہ میت کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی میں وصیت نافذ کر نے کے بعد بقیہ کل مال کو چالیس (40) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوی کو پانچ ہر بیٹے کوچودہ( 14 )اور بیٹی کو سات(7) حصے ملیں گے ۔
مذکورہ رقم کے اعتبار سے بیوی کو پندرہ(15) لاکھ ہر بیٹے کو بیالیس(42) لاکھ اور بیٹی کو اکیس(21) لاکھ روپے ملیں گے ۔
القرأن الكريم : [النساء:/4 176]
مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۗ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ أَن تَضِلُّواْۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمُۢ .
السراجي في الميراث : (ص8، ط: قديمي كراتشي )
اما الزوجات .... والثمن مع الولد وولد الابن وان سفل .