طلاق معلقہ

طلاق معلق

فتوی نمبر :
215
معاملات / احکام طلاق / طلاق معلقہ

طلاق معلق

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر آپ کے پاس میں نے دوبارہ کیمرے والا موبائل دیکھا تو میری بیوی پر طلاق ہے اس کے بعد قسم کھانے والے نے موبائل لے کراس میں سے گانےوغیرہ ڈیلیٹ کردیئے چند دنوں بعد قسم کھانےوالے نے موبائل انہیں واپس کردیاآیا اس صورت میں طلا ق واقع ہوئی ہے یا نہیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت میں اگر شرط پائی جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہذاپوچھی گئی صورت میں چونکہ شرط پائی گئی ،اس لیےایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ۔

حوالہ جات

الهندية:(1/ 428، ط: دارالفكر)
وإن قال: أنت ‌طالق ‌إن ‌أكلت وإن شربت أو قال: إن أكلت فأنت طالق وإن شربت فأيهما وجد نزل الجزاء ولا تبقى اليمين .

الموسوعة الفقهية :(29/ 37، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)
إذا قال لزوجته: أنت ‌طالق ‌إن ‌دخلت دار فلان، أو: أنت طالق إن ذهبت أنا إلى فلان، أو: أنت طالق إن زارك فلان ... فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
140
فتوی نمبر 215کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --