احکام وراثت

میراث میں ماں کا حصہ

فتوی نمبر :
2108
معاملات / ترکات / احکام وراثت

میراث میں ماں کا حصہ

السلام علیکم ورحمۃاللہ!
ایک شخص نے قسطوں پر زمین خریدی اور اس کی قسطیں مکمل ہونے سے پہلے یعنی قبضہ ملنے سے پہلے اس شخص کا انتقال ہوگیا، پھر اس کی اولاد نے وہ زمین بیچ دی تو اس وراثت میں کون کون حصہ دار ہوگا؟
صرف مرحوم کی اہلیہ اور بچے یا اس کی والدہ بھی حق دار ہوگی؟ (والدہ مرحوم کے ساتھ نہیں رہتی تھیں اور دماغی طور پر بہت کمزور ہیں کچھ یاد نہیں رہتا، وہ اپنے بیٹے کے گھر پر رہتی ہیں اور مرحوم کے حصے میں سے تقاضا مرحوم کی والدہ خود نہیں کر رہیں، مرحوم کے بھائی والدہ کے نام پر تقاضا کر رہے ہیں۔)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی شخص یا عورت کا انتقال ہو جائے اور اس کے والدین زندہ ہوں تو والدین مرنے والی اولاد کے ترکہ میں شرعاً حق دار ہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں قسطوں پر خریدی گئی زمین چونکہ میت کا ترکہ ہے، اس لیے اس میں مرنے والے کی والدہ کا بھی حصہ ہے، خواہ والدہ مطالبہ کریں یا نہ کریں بہر صورت ان کا حصہ ان کو دیا جائے گا ۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:( النساء:11:4)*
وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا.

*اللباب في شرح الكتاب:(196/4،ط:المكتبة العلمية)*
(فللزوج النصف، وللأم السدس، ولولدي الأم الثلث) بالنصوص الواردة فيهم (ولا شيء للأخ من الأب والأم) لاستغراق التركة بالفروض.

*الأصل لمحمد بن الحسن:(61/6،ط:دار ابن حزم)*
فإن ترك ابنة وأمًا وامرأة (١) وأختًا لأب وأم وجدًا فللابنة النصف وللأم السدس وللمرأة الثمن وما بقي فللجد وسقطت الأخت.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
19
فتوی نمبر 2108کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --