کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا حضرت آدم کا مہر نبی علیہ السلام پر دس بار درود بھیجنا تھا؟
علامہ عبدالرحمن صفوری(م۸۹۴ھ)نے اپنی کتاب’’ نزهة المجالس‘‘میں بغیر کسی سند کے ذکر کیا ہےکہ ’’ جب اللہ تعالیٰ نے حوّا کو پیدا فرمایا تو اسے ہزار حوروں کے برابر حسن عطا فرمایا، اور اسے ایک تخت پر بٹھایا، اور اس کے پاس چار ہزار حوریں تھیں۔ ان میں سے اگر کوئی ایک دنیا کی طرف دیکھ لے تو دنیا سورج اور چاند سے بے نیاز ہو جائے۔ وہ حوریں حوّا کے پاس ایسی تھیں جیسے سورج کے سامنے چراغ۔پھر آدم علیہ السلام نے حوّا کے قریب ہونے کا ارادہ کیا تو کہا گیا: پہلے اس کا مہر ادا کرو۔ آدم علیہ السلام نے عرض کیا: میں نے تو جنت کی ہر چیز اسے دے دی ہے۔ کہا گیا: اس کا مہر اس سے زیادہ ہے۔ پوچھا: وہ کیا ہے؟ کہا گیا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر دس مرتبہ درود بھیجنا۔‘‘
اسی طرح بعض تفاسیراور کتب سیرت میں بھی الفاظ کےفرق کے ساتھ اس کو ذکر کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ روایت از قبیل اسرائیلیات ہے ، اس کی کوئی معتبر سند نہیں ، جو مصنفین حضرات اس طرح کی روایات نقل کرتے ہیں ، یہ ان کا تسامح وتساہل ہے۔
نیز علامہ صفوری کی کتاب ان کتب میں سے ہے، جو من گھڑت اور اسرائیلی روایات سے بھری ہوئی ہیں۔علامہ سیوطی (م۹۱۱ھ)اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں: علمائے کرام کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ اس کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے،اس کا بغور جائز ہ لیں۔ کیا اس کو کسی کتاب میں درج کرنا اور اس کا نام’’نزهة المجالس ومنتخب النفائس‘‘ رکھنا جائز ہے؟ اور کیا ہر اس آدمی کے پاس اس کا پہنچ جانا درست ہے، جو صحیح اور غلط کی تمیز نہ کرسکتا ہو ؟ اور کیا اس کو لکھنا، لکھوانا، پڑھنا، اس سے نقل کرنا اور کرسیوں و منبروں پر بیان کرنا درست ہے؟
شیخ شہاب الدین حمصی (م۹۳۴ھ)کہتے ہیں کہ میں عبدالرحمن صفوری کو اس کتاب میں ذکر کردہ موضوع (من گھڑت ) اور بے اصل روایات بیان کرنے کی بنیاد پر جامع اموی سے ان کی درس کی کرسی( مسند)ہٹانے کا حکم دیا۔
خلاصہ کلام:
دُرودِ شریف کے فضائل کے بارے میں کثرت سے صحیح اور مستند احادیث موجود ہیں۔ ایسی صورت میں بے سند یا غیر معتبر روایات کی بنیاد پر کوئی نئی فضیلت ثابت کرنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی اس کی کوئی خاص اہمیت ہے۔ خود رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ان باتوں سے مستغنی ہے، اس لیے اس قسم کے غیر ثابت اور کمزور واقعات کے بیان سے اجتناب کرنا چاہیے۔
*نزهة المجالس ومنتخب النفائس:(2/ 25،ط: المطبعه الكاستلية)*
حكاية: رأيت في عقائق الحقائق أن الله تعالى عرض على آدم صور المخلوقين ليأنس بشيء منها فأعرض عنها لأنهن من غير الجنس فلما نام عرض الله عليه صورة حواء فمال قلبه إليها لأنها من جنسه فلذلك جازت الرؤية قبل عقد النكاح للوجه والكفين فقط من الحرة أما الأمة فينظر منها ما سوى ما بين السرة والركبة ثم قال تعالى لها كوني فكانت من ضلعه الأيسر من غير أن يجد ألما ولولا ذلك لم يعطف رجل على زوجته ثم أمرها بالتقدم إلى آدم وقال زوجتك مصطفاي من خلقي فلماانتبه من نومه ورآها أغمضت عينيها فقالت الملائكة لآدم أتحبها يا آدم قال نعم ثم قالوا لها أتحبينه قالت لا وفي قلبها أضعاف ما في قلبه من المحبة قال ولما خلق الله حواء كساها حسن ألف حوراء وأجلسها على سرير وعندها أربعة آلف حوراء لو نظرت واحدة منهن إلى الدنيا لاستغنت بها عن الشمس والقمر وهن عند حواء كالسراج عند الشمس فأراد آدم القرب فقيل له حتى تؤدي مهرها قال وقد وهبتها كل شيء في الجنة قال صداقها أكثر من ذلك قال وما هو قال أن تصلي على محمد صلى الله عليه وسلم عشر صلوات.
*حاشية الصاوى على تفسير الجلالين:(1/32،ط: دار الكتب العلمية)*
وقد خلقت بعد دخوله الجنة نام فلما استيقظ وجدها فأراد أن يمد يده إليها فقالت له الملائكة مه يا آدم حتى تؤدي مهرها، فقال وما مهرها فقالوا ثلاث صلوات أو عشرون صلاة على سيدنا محمد صلى الله عليه وسلم.
*الحاوي للفتاوي:(2/ 55،ط: دار الفكر)*
والمسؤول - من موالينا وساداتنا علماء الإسلام وحسنات الليالي والأيام جمل الله تعالى بوجودهم، وأفاض على المسلمين من بركاتهم وجودهم - إمعان النظر فيما سطر في هذه الكراسة هل يجوز أن يدون في كتاب، ويسمى نزهة المجالس ومنتخب النفائس، ويتداوله من لا معرفة له تميز بين الصحيح والسقيم؟ ويكتبه أو يستكتبه ويقرأ وينقل منه على الكراسي والمنابر، وماذا يجب على من استهدف وجمعه بعد أن طلبه خادم السنة الفقير إبراهيم الناجي ونصحه ونهاه وفارقه قائلا: رجعت عنه كما رجع الإمام الشافعي عن القول القديم، ثم عاد إلى ما كان عليه ودعا الناس إليه؟ وهل يؤمر بإعدامه وما وجد من نسخه مع أن ما اختصر من الكتابة منه خشية الإطالة من هذه المقولة أكثر مما كتب، أم يبقى على حاله؟ أمعنوا في الجواب بوأكم الله زلفى وحسن مآب.
*حوادث الزمان ووفيات الشيوخ والأقران لابن الحمصي:(1/ 245،ط: دار النفائس)*
جمادى الأولى: وفي يوم الخميس خامس عشره، منعت زين الدين الصفوري، المحدث، من القراءة بالجامع/الأموي ومن غيره، وأمرت بشيل كرسيه من الجامع الأموي. وسببه أنه جمع كتابا سماه (نزهة المجالس)، وذكر فيه أحاديث موضوعة على النبي صلى الله عليه وسلم. ثم أحضر الكتاب المذكور، وذكر أنه تاب، ورجع عن الأحاديث الموضوعة التي فيه، وأنه لا يعود لذلك، والله يعلم المفسد من المصلح.