طلاق معلقہ

طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنا

فتوی نمبر :
188
معاملات / احکام طلاق / طلاق معلقہ

طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے اپنی بہن کی شادی خالد سے کی اب شادی کے بعد خالد نشے کا عادی بن گیا طرح طرح کانشہ کرتا تھا تو زید نے اپنی بہن کو اپنے گھر لایا اب خالد ( شوہر) کہہ رہاھے کہ اسکو میں گھر واپس لےکر ہی جاؤں گا،زیداور خالد کے درمیان منہ ماری ہوگئی اور اسی دوران زید(بھائی)نےخالدسے کہا کہ اگر آپ اسکو اپنے گھر لیکر گئے میرے گھرسے تو مجھ پر بیوی طلاق ھوگی۔اب وہ لڑکی خودشوہر کے گھر چلی گئی یا زبردستی کوئی لےجاۓ تو زید کے بیوی کو طلاق واقع ہوگی یانہیں،

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت میں اگر شرط پائی جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر خالد اپنی بیوی کو گھر لے کر گیا ہے تو زید کی بیوی پر طلاق واقع ہو چکی،لیکن اگر لڑکی خود شوہر کے گھر چلی گئی یا کوئی اور اسے لے کر گیا تو زید کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔

حوالہ جات


فتح القدیر:(116/4،ط: دارالفکر)
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط.

البناية شرح الهداية:(413/5،ط: دارالکتب العلمية)
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق، وهذا بالاتفاق.

الھندية:(420/1، ط:دارالفکر)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
132
فتوی نمبر 188کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --