تحقیق و تخریج حدیث

عورت کے پسلی سے پیدا ہونے کا مفہوم

فتوی نمبر :
1632
قرآن و حدیث / تحقیق و تخریج حدیث / تحقیق و تخریج حدیث

عورت کے پسلی سے پیدا ہونے کا مفہوم

حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بائیں پسلی سے اللہ ربّ العزّت نے حضرت حوّا علیہا السلام کو پیدا فرمایا۔ اب سوال یہ ہے کہ عورت کو بائیں پسلی سے پیدا کرنے میں کیا راز اور حکمت پوشیدہ ہے؟
براہِ کرم اس کی وضاحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اُس نے ایک جان سے انسانیت کی ابتدا کی اور اسی سے اس کی جوڑی پیدا کی (سورۃ النساء: 1)۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نے عورت کی تخلیق کی تفصیل بیان نہیں کی، البتہ بعض احادیث میں عورت کے “پسلی سے پیدا ہونے” کا ذکر آیا ہے۔ اس کا لازمی معنی یہ نہیں کہ عورت واقعی پسلی سے پیدا ہوئی، بلکہ عربی زبان کے محاورے میں یہ ایک تشبیہ ہے جو فطرت اور مزاج کی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔
جیسے اردو میں کہا جاتا ہے کہ “فلاں شخص سخت ہڈی کا بنا ہے”، اس سے مراد اس کا مزاج ہوتا ہے نہ کہ اصل مادّہ۔ اسی طرح حدیث میں عورت کے ٹیڑھے پن سے مراد اس کی وہ فطری نزاکت اور نرمی ہے جو اُس کی شخصیت کا حسن ہے، حدیث کے اس حصے میں عورت کی فطرت کو واضح کرتے ہوئے بتایا گیا کہ عورت مرد کے مزاج پر مکمل طور پر ”فٹ“ نہیں بیٹھ سکتی، کیونکہ اللہ نے دونوں کو مختلف خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
اس حدیثِ میں عورت کے ”پسلی کی طرح ہونے“ کا مقصد کوئی جسمانی حقیقت بیان کرنا نہیں، بلکہ مرد کو یہ سمجھانا ہے کہ عورت کی فطرت نرمی، جذبات اور لطافت پر مبنی ہے، مرد اگر اسے زبردستی اپنی توقعات کے مطابق بدلنا چاہے گا تو نہ وہ کامیاب ہوگا اور نہ ہی گھر کا سکون برقرار رہے گا،مرد اکثر یہ خیال کرتا ہے کہ شاید اس کی بیوی میں کوئی خاص کمی ہے اور دوسری عورتیں بہتر ہوں گی، لیکن حدیث واضح کرتی ہے کہ عورت جہاں بھی ہوگی، اپنے مخصوص فطری مزاج کے ساتھ ہوگی، اس لیے عقلمند اور بہترین شخص وہ ہے عورت کے ساتھ صبر و تحمل، نرمی اور حکمت سے پیش آئے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اچھا ہو“

حوالہ جات

*صحيح مسلم:(179/4،رقم الحديث:62-(1468)،ط: دار طوق النجاة)*
وحدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ، حدثنا حسين بن علي ، عن زائدة ، عن ميسرة ، عن أبي حازم ، عن أبي هريرة : عن النبي ﷺ قال: «من كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فإذا شهد أمرا فليتكلم بخير أو ليسكت، واستوصوا بالنساء، فإن المرأة خلقت من ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه إن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل أعوج، استوصوا بالنساء خيرا ».

*فتح المنعم شرح صحيح مسلم:(45/6،ط:دار الشروق)*
وفي الرواية الثالثة «إن المرأة خلقت من ضلع» والكلام على التشبيه أيضا، والأصل خلقت من طبيعة معوجة كالضلع، ففي الكلام استعارة، بحذف المشبه ووجه الشبه والأداة، واستعير لفظ المشبه به للمشبه، على سبيل الاستعارة التصريحية الأصلية، وقيل: أراد من هذه الرواية أول النساء «حواء» فقد أخرج ابن إسحق في «المبتدأ» عن ابن عباس «أن حواء خلقت من ضلع آدم الأيسر، وهو نائم قبل أن يدخل الجنة» أي فدخلاها سويا، وقيل: في الجنة. وكذا أخرجه ابن أبي حاتم وغيره من حديث مجاهد، قال الحافظ ابن حجر: وأغرب النووي فعزاه للفقهاء أو بعضهم. اهـ والحقيقة أن هذا القول مصدره بعض الآثار عن ابن عباس ومجاهد، وليس للفقهاء به صلة.فلفظ الضلع على هذا على حقيقته، ويكون معنى خلقها من الضلع الحقيقي إخراجها منه عند أصل الخلقة كما تخرج النخلة من النواة، لكن يلزمه الإشارة إلى طبيعة النساء واعوجاجهن، وهو المقصود، فكأنه يقول: إن النساء في تصرفاتهن الاعوجاج لأن أصلهن حواء خلقت من عوج.

*عمدة القاري:(166/20،ط:دار الفكر)*
قوله: (واستوصوا) قال البيضاوي: الاستئصاء قبول الوصية والمعنى: أوصيكم بهن خيرا فاقبلوا وصيتي فيهن فإنهن خلقن من ضلع، واستعير الضلع للعوج أي: خلقن خلقا فيه اعوجاج فكأنهن خلقن من أصل معوج فلا يتهيأ الانتفاع بهن إلا بمداراتهن والصبر على اعوجاجهن. وقال الطيبي: الأظهر أن السين للطلب مبالغة أي: اطلبوا الوصية من أنفسكم في حقهن بخير، وقال الزمخشري: السين للمبالغة أي: يسألون أنفسهم الفتح عليهم، كالسين في استعجبت، ويجوز أن يكون من الخطاب العام أي: يستوصي بعضكم من بعض في حقهن.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
36
فتوی نمبر 1632کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --