طلاق

”جانا ہے تو چلی جا دفع ہوجا “ کہنے سے طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
1544
معاملات / احکام طلاق / طلاق

”جانا ہے تو چلی جا دفع ہوجا “ کہنے سے طلاق کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک شخص نے پشتو میں اپنی بیوی سے کہا ” زے نو بیا زہ ورکیگا “ (جانا ہے تو چلی جا دفع ہوجا ، جب کہ طلا ق کی نیت نہیں تھی ، اس کےبعد کہا ” تجھے طلاق ہے “ اب اس کے دو دن کے بعد اس عورت کا وضع حمل ہوا ، وضع حمل سے پہلے بھی شوہر نے بیوی سے بات چیت وغیرہ کی ہے ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ کونسی طلاق واقع ہوگئی ہے ؟ رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شوہر کا ” زے نو بیا زہ ورکیگا “ طلاق کے الفاظ کنایہ ہیں اور ان سے نیت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی ،اور شوہر کا دوسرا قول ” تجھے طلاق ہے “ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی تاہم عدت کے دوران رجوع نہ کرنے کی وجہ اب وہ طلاق بائن بن گئی ہے ، لہذا اب میاں بیوی کا بغیر تجدید نکاح کے ایک ساتھ رہنا اور ازدواجی تعلقات قائم رکھنا ناجائز اور حرام ہے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (3/ 296، ط: دارالفكر)
(كنايته) عند الفقهاء (‌ما ‌لم ‌يوضع ‌له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام .

بدائع الصنائع : (3/ 110، ط: دارالكتب العلمية )
ولو قال لها: أنت طالق ‌من ‌هنا ‌إلى ‌موضع ‌كذا فهو رجعي في قول أصحابنا الثلاثة.

الهندية: (1/ 472، ط: دارالفكر)
‌‌[فصل ‌فيما ‌تحل ‌به ‌المطلقة وما يتصل به]إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
43
فتوی نمبر 1544کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --