طلاق

طلاق نامہ پربیوی کے دستخط کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے

فتوی نمبر :
1124
معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق نامہ پربیوی کے دستخط کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نےتین طلاق والے طلاق نامہ پر دستخط کردی ، البتہ اس کے بیوی نے نہ دستخط کیے اور نہ ہی اس کو طلاق کا علم ہے ، آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت اگر طلاق نامہ میں تین طلاقیں لکھی گئی ہیں اور شوہرکواس کا پتہ بھی ہے اور اس نے اس پر دستخط کردییے ، تو بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔
واضح رہے کہ تین طلاقیں واقع ہونے کی صورت میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق نہیں رہتا اور نہ ہی عدت کے بعد وہ دونوں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، جب تک عورت کسی اور مرد سے نکاح کر کے اس کے ساتھ حقوقِ زوجیت ادا نہ کر لے،پھر اگر دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے یا وہ وفات پا جائے اور اس کی عدت مکمل ہو جائے تو اس کے بعد عورت اور پہلا شوہر دونوں کی رضا مندی سے، نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں، دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

القرأن الكريم: [البقرة:/2 230]
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ .

سنن ابن ماجه:(3/ 197 ،رقم الحديث: 2039،ط:دارالرسالة العالمية)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "‌ثلاث ‌جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح والطلاق والرجعة.

الهندية:(1/ 378، ط: دارالفكر)
ثم المرسومة لا تخلو أما ‌إن ‌أرسل ‌الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.

الشامية :(3/ 246، ط: دارالفكر)
اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج ‌فأخذه ‌الزوج ‌وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
40
فتوی نمبر 1124کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --