السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص بیوی کو غصے میں کہے، دس دن عدت کر لے، اس کا کیا حکم ہے؟
کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی ؟
واضح رہے کہ اگر شوہر بیوی کو طلاق کی نیت سے کہے کہ دس دن عدت کر لے تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی، جس کے بعد شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہوگا۔
رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر عدت (یعنی تین حیض) مکمل ہونے سے پہلے بیوی سے یہ کہے: "میں رجوع کرتا ہوں"، یا بیوی کو شہوت کے ساتھ چھولے، بوسہ دے، گلے لگائے، شرمگاہ کے اندرونی حصے کو دیکھ لے یا ہمبستری کر لے تو عورت دوبارہ شوہر کے نکاح میں آ جائے گی، لیکن اگر عدت مکمل ہو جائے تو ایسی صورت میں محض رجوع کافی نہیں ہوگا، بلکہ جانبین کی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
*الدرالمختار:(300/2،ط:دار الفكر)*
ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له.
*فتح باب العناية بشرح النقاية:(109/2،ط:دار الأرقم بن أبي الأرقم)*
(ونحو: اعتدي، واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري، أمرك بيدك، وسرحتك، وفارقتك، لا يحتملهما) أي الرد لسؤال المرأة، والسب لها، وإنما يصلح جوابا لسؤالها ومعاني أخر.
(ففي الرضا) وهو أن لا يكون غضب ولا مذاكرة طلاق (يتوقف الكل على النية) للاحتمال وعدم دلالة الحال (وفي الغضب) يتوقف القسمان (الأولان) على النية لأن الأول لما احتمل الرد والثاني السب، وقع الشك في الجواب، فلا تطلق إلا بالنية. (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) أي ولا يتوقف الأخيران.
*الهندية:(1/ 470،ط:دارالفکر)*
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
*وفیھا(572/1،ط:دارالفکر)*
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها.