طلاق

نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
421
معاملات / احکام طلاق / طلاق

نشہ کی حالت میں دی گئی طلاق کا شرعی حکم

کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنی بیوی کو شراب کے نشے میں طلاق دیتا ہے، لیکن جب نشہ اترتا ہے تو وہ اس سے مکر جاتا ہے، اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے طلاق دی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شراب پینا بذاتِ خود سخت گناہ ہےاور اس گناہ کے ارتکاب سے انسان اپنے اقوال و افعال کے نتائج سے بری نہیں ہوتا، اسی وجہ سےاگر کوئی شخص نشے کی حالت میں بیوی کو طلاق دے تو وہ طلاق شرعاً واقع ہو جاتی ہے، چاہے نشہ اترنے کے بعد اسے یاد نہ رہے، یا وہ مکر جائے۔

حوالہ جات

*الشامية:(3/ 235،ط دارالفكر)*
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح.

*الشامیة:(3/ 239،ط:دارالفکر*)
وبين في التحرير حكمه أنه ‌إن ‌كان ‌سكره ‌بطريق ‌محرم لا يبطل تكليفه فتلزمه الأحكام وتصح عبارته من الطلاق والعتاق.

*الهنديه:(1/ 353،ط:دارالفكر)*
«وطلاق السكران ‌واقع ‌إذا ‌سكر ‌من ‌الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
81
فتوی نمبر 421کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --