معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق علی المال کا حکم

فتوی نمبر : 1792 0000-00-00 116 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عرصہ سے میاں بیوی کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے بیوی اپنے میکے چلی گئی، کچھ دنوں بعد میاں بیوی کے مشران(بڑوں ) نے صلح کروائی اور لڑکی کو واپس سسرال لے آئے، لیکن ایک مہینہ گزرتے ہی لڑکی واپس اپنے میکے چلی گئی دوبارہ شوہر کے گھر نہیں آ رہی تھی کہ اسی درمیان دو سال گزر گئے، لڑکی کے گھر والے لڑکے سے طلاق کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن لڑکا طلاق دینے کیلئے راضی نہیں، لڑکی والوں نے خلع کے لئے عدالت سے رجوع کر لیا، پھر مجبورا علاقے کے مشران نے دونوں کو بٹھایا کہ آپس میں اس مسئلہ کو حل کر لو ، لڑکا پھر بھی طلاق دینے کےلئے تیار نہیں وہ کہتا ہے کہ لڑکی بغیر کسی معقول وجہ کے اپنی میکے میں بیٹھی ہے اور طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے ، لیکن مشران نے لڑکے کو طلاق دینے پر مجبور کر دیا، لڑکے اور ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ شادی پر ہمارا جتنا بھی خرچہ ہوا تھا لڑکی والوں کو جو پیسے دیے، کپڑے جوڑے دیے، سونا دیا تھا وہ واپس کرنا ہوگا ، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح وہ تمام چیزیں واپس لینا جائز ہے یا نہیں؟مشران ان کے درمیان فیصلہ کیسے کریں؟ مہر واپس لے سکتا ہے یا نہیں یا صرف سونا واپس لے سکتا ہے ؟اس کی کیا ترتیب بن سکتی ہے؟ براہ کرم تفصیل سے جتنی جلدی ہوسکے رہنمائی فرمائیے ۔ کل ان کا جرگہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح ایک مقدس ومعزز رشتہ ہے، اس لیے شوہر اور بیوی دونوں پر لازم ہے کہ بغیر کسی معقول وجہ کے طلاق دینے ، خلع یا طلاق کا مطالبہ کرنے سے گریز کریں، گھریلو زندگی میں پیش آنے والی ناخوشگوار باتوں پر صبر، برداشت اور حکمت سے کام لینا چاہیے اور دونوں میاں بیوی اپنے اپنے حقوق کو ملحوظ رکھتے ہوئے گھر کو آباد رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر اختلافات بڑھ جائیں اور معاملہ خود حل نہ ہو سکے تو گھر کے سمجھ دار اور معزز بزرگوں کی مدد سے اصلاح کی کوشش کی جائے ،شریعت کی ہدایت یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، رشتہ بچانے کی کوشش کی جائے، البتہ اگر معاملہ اس حد تک پہنچ جائے کہ نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے اور یہ اندیشہ ہو کہ زوجین اللہ کی مقرر کردہ حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو جدائی کا راستہ اختیار کرنا جائز ہے۔ اگر رشتے میں خرابی اور زیادتی لڑکی کی طرف سے ہو تو لڑکے والے طلاق کے بدلے صرف مہر کے بقدر رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں، مہر سے زیادہ لینا شرعاً ناپسندیدہ ہے، تاہم اگر لے لیا تو اس کی گنجائش ہے۔ اور اگر زیادتی لڑکے والوں کی جانب سے ہو تو ان کے لیے طلاق کے بدلے کسی بھی قسم کا مالی مطالبہ کرنا جائز نہیں۔

*العناية شرح الهداية:(218/4،ط:دار الفكر)* وإن طلقها على مال) مثل أن قال أنت طالق بألف درهم أو على ألف درهم (فقبلت وقع الطلاق ولزم المال) لأن هذا تصرف معاوضة يعتمد أهلية المتعاوضين وصلاحية المحل والكل حاصل، أما أهلية الزوج فلأنه يستبد بالطلاق تنجيزا وتعليقا لا محالة، وقد علقه بقبولها بدلالة مقام المعاوضة فإن الحكم فيه متعلق بالقبول، وأما أهلية المرأة فلأنها تملك التزام المال لولايتها على نفسها، وأما صلاحية المحل فلأن ملك النكاح مما يجوز الاعتياض عنه، وإن لم يكن مالا كالقصاص فإنه ليس بمال، وجاز أخذ العوض عنه والجامع وجود التزام من أهله، كذا في بعض الشروح (وإذا وقع الطلاق كان بائنا لما بينا) أنها لا تسلم المال إلا لتسلم لها نفسها (ولأنه معاوضة المال بالنفس وقد ملك الزوج أحد البدلين فتملك الزوجة البدل الآخر وهو النفس تحقيقا للمساواة). *مجمع الأنهر:(759/1،ط:دار إحياء التراث العربي)* (وكره) [له أي للزوج أخذ شيء من المهر وإن قل لقوله تعالى ﴿فلا تأخذوا منه شيئا﴾ [النساء: ٢٠] إن نشز الزوج وكره أخذ أكثر مما أعطاها من المهر إن نشزت] تحريما وقيل تنزيها (له) أي للزوج (أخذ شيء) من المهر وإن قل لقوله تعالى ﴿فلا تأخذوا منه شيئا﴾ [النساء: ٢٠] (إن نشز) الزوج أي كرهها وباشر أنواع الأذى. (و) كره (أخذ أكثر مما أعطاها) من المهر (إن نشزت) المرأة فلا يكره أخذ ما قبضته منه هذا على رواية الأصل وعلى رواية الجامع لم يكره أن يأخذ أكثر مما أعطاها لكن اللائق بحال المسلم أن يأخذ ناقصا من المهر حتى لا يخلو الوطء عن المال. *الدر المختار:(445/3،ط: دارالفكر)* (وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه فتح، وصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى لا بأس به يفيد أنها تنزيهية وبه يحصل التوفيق.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
شوہر کا بیوی سے یہ کہنا کہ ’’اگر آپ نے ایک قدم بھی چوکھٹ سے باہر نکالا تو مجھ سے أزاد ہو’’۔
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق نامہ پربیوی کے دستخط کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
تین طلاقوں کا اقرار کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ذہنی مریض کی طلا ق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوی کا شوہر سے کہنا کہ آپ مجھے میرے بھائی کی طرح پیارے ہیں یا میں آپ کو اپنے بھائی کی طرح پیار کرتی ہوں
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے الفاظِ کنایہ کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق علی المال کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
لفظ "طلا "کہنے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
زبانی،تحریری طلاق دیے بغیرسسر کو تین نوٹ دینے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
توفارغ کہنے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے جھوٹا اقرار کرنے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ميسج كے ذریعے طلاق دینا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
غصے کی حالت میں بیوی کو کہنا کہ دس دن عدت کر لے
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق دوں کہنے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے وسوسے اور زبان یا ہونٹ ہلانے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
"میرے گھر سے چلی جاؤ" کہنے کی صورت میں طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
میسج کےذریعےطلاق کا شرعی حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
میاں بیوی میں طلاق کےعدد میں اختلاف ہو جائے
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
طلاق کے وسوسے آنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
میاں، بیوی میں طلاق واقع ہونے میں اختلاف کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
تین پتھر دینے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
’’ طلاق دے دوں گا ‘‘کہنے سے طلاق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوی کو میسج میں "میں نے تجھے آزاد کیا" لکھ کر فورا مٹا دیا