طلاق

طلاق علی المال کا حکم

فتوی نمبر :
1792
معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق علی المال کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عرصہ سے میاں بیوی کے درمیان تنازعہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے بیوی اپنے میکے چلی گئی، کچھ دنوں بعد میاں بیوی کے مشران(بڑوں ) نے صلح کروائی اور لڑکی کو واپس سسرال لے آئے، لیکن ایک مہینہ گزرتے ہی لڑکی واپس اپنے میکے چلی گئی دوبارہ شوہر کے گھر نہیں آ رہی تھی کہ اسی درمیان دو سال گزر گئے، لڑکی کے گھر والے لڑکے سے طلاق کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن لڑکا طلاق دینے کیلئے راضی نہیں، لڑکی والوں نے خلع کے لئے عدالت سے رجوع کر لیا، پھر مجبورا علاقے کے مشران نے دونوں کو بٹھایا کہ آپس میں اس مسئلہ کو حل کر لو ، لڑکا پھر بھی طلاق دینے کےلئے تیار نہیں وہ کہتا ہے کہ لڑکی بغیر کسی معقول وجہ کے اپنی میکے میں بیٹھی ہے اور طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے ،
لیکن مشران نے لڑکے کو طلاق دینے پر مجبور کر دیا، لڑکے اور ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ شادی پر ہمارا جتنا بھی خرچہ ہوا تھا لڑکی والوں کو جو پیسے دیے، کپڑے جوڑے دیے، سونا دیا تھا وہ واپس کرنا ہوگا ،
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح وہ تمام چیزیں واپس لینا جائز ہے یا نہیں؟مشران ان کے درمیان فیصلہ کیسے کریں؟
مہر واپس لے سکتا ہے یا نہیں یا صرف سونا واپس لے سکتا ہے ؟اس کی کیا ترتیب بن سکتی ہے؟ براہ کرم تفصیل سے جتنی جلدی ہوسکے رہنمائی فرمائیے ۔ کل ان کا جرگہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح ایک مقدس ومعزز رشتہ ہے، اس لیے شوہر اور بیوی دونوں پر لازم ہے کہ بغیر کسی معقول وجہ کے طلاق دینے ، خلع یا طلاق کا مطالبہ کرنے سے گریز کریں، گھریلو زندگی میں پیش آنے والی ناخوشگوار باتوں پر صبر، برداشت اور حکمت سے کام لینا چاہیے اور دونوں میاں بیوی اپنے اپنے حقوق کو ملحوظ رکھتے ہوئے گھر کو آباد رکھنے کی کوشش کریں۔
اگر اختلافات بڑھ جائیں اور معاملہ خود حل نہ ہو سکے تو گھر کے سمجھ دار اور معزز بزرگوں کی مدد سے اصلاح کی کوشش کی جائے ،شریعت کی ہدایت یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، رشتہ بچانے کی کوشش کی جائے، البتہ اگر معاملہ اس حد تک پہنچ جائے کہ نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے اور یہ اندیشہ ہو کہ زوجین اللہ کی مقرر کردہ حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو جدائی کا راستہ اختیار کرنا جائز ہے۔
اگر رشتے میں خرابی اور زیادتی لڑکی کی طرف سے ہو تو لڑکے والے طلاق کے بدلے صرف مہر کے بقدر رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں، مہر سے زیادہ لینا شرعاً ناپسندیدہ ہے، تاہم اگر لے لیا تو اس کی گنجائش ہے۔
اور اگر زیادتی لڑکے والوں کی جانب سے ہو تو ان کے لیے طلاق کے بدلے کسی بھی قسم کا مالی مطالبہ کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

*العناية شرح الهداية:(218/4،ط:دار الفكر)*
وإن طلقها على مال) مثل أن قال أنت طالق بألف درهم أو على ألف درهم (فقبلت وقع الطلاق ولزم المال) لأن هذا تصرف معاوضة يعتمد أهلية المتعاوضين وصلاحية المحل والكل حاصل، أما أهلية الزوج فلأنه يستبد بالطلاق تنجيزا وتعليقا لا محالة، وقد علقه بقبولها بدلالة مقام المعاوضة فإن الحكم فيه متعلق بالقبول، وأما أهلية المرأة فلأنها تملك التزام المال لولايتها على نفسها، وأما صلاحية المحل فلأن ملك النكاح مما يجوز الاعتياض عنه، وإن لم يكن مالا كالقصاص فإنه ليس بمال، وجاز أخذ العوض عنه والجامع وجود التزام من أهله، كذا في بعض الشروح (وإذا وقع الطلاق كان بائنا لما بينا) أنها لا تسلم المال إلا لتسلم لها نفسها (ولأنه معاوضة المال بالنفس وقد ملك الزوج أحد البدلين فتملك الزوجة البدل الآخر وهو النفس تحقيقا للمساواة).

*مجمع الأنهر:(759/1،ط:دار إحياء التراث العربي)*
(وكره) [له أي للزوج أخذ شيء من المهر وإن قل لقوله تعالى ﴿فلا تأخذوا منه شيئا﴾ [النساء: ٢٠] إن نشز الزوج وكره أخذ أكثر مما أعطاها من المهر إن نشزت] تحريما وقيل تنزيها (له) أي للزوج (أخذ شيء) من المهر وإن قل لقوله تعالى ﴿فلا تأخذوا منه شيئا﴾ [النساء: ٢٠] (إن نشز) الزوج أي كرهها وباشر أنواع الأذى.
(و) كره (أخذ أكثر مما أعطاها) من المهر (إن نشزت) المرأة فلا يكره أخذ ما قبضته منه هذا على رواية الأصل وعلى رواية الجامع لم يكره أن يأخذ أكثر مما أعطاها لكن اللائق بحال المسلم أن يأخذ ناقصا من المهر حتى لا يخلو الوطء عن المال.

*الدر المختار:(445/3،ط: دارالفكر)*
(وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه فتح، وصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى لا بأس به يفيد أنها تنزيهية وبه يحصل التوفيق.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
39
فتوی نمبر 1792کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --