طلاق

طلاق کے جھوٹا اقرار کرنے سے طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
2088
معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق کے جھوٹا اقرار کرنے سے طلاق کا حکم

مفتی صاحب!
اگر کوئی شخص کسی کے سامنے طلاق کا جھوٹا اقرار کرے اور کہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے تو کیا اس جھوٹے اقرار سے اس کی بیوی کو طلاق واقع ہو جائے گی ؟
اگر ہوگی تو کونسی طلاق واقع ہوگی ؟جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں.

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی شخص کسی کے سامنے یہ کہنا کہ "اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے" در حقیقت طلاق کا اقرار ہے اور طلاق کے اقرار کا شرعی حکم یہ ہے کہ اس سے قضاءً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، اگرچہ اس نے جھوٹا اقرار کیا ہو ، لہذا پوچھی گئی صورت میں ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی، جس کا حکم یہ ہے کہ اگر عدت کے اندر رجوع کیا جائے تو نکاح برقرار رہتا ہے، دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے کے بعد دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کےساتھ دوباره نکاح کیا جاسکتا ہے ، لیکن آئندہ کے لیے اس کے پاس صرف دو طلاق کا اختیار ہوگا۔

حوالہ جات

*الشامية: (3/ 236،ط:دارالفكر)*
ولو ‌أقر ‌بالطلاق ‌كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ. ويأتي تمامه.

*الهداية :(2/ 254،ط:دار احياء التراث العربي)*
وإذا طلق الرجل امرأته ‌تطليقة ‌رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض" لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها ".

*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (1/ 40،ط: دار المعرفة)*
(سئل) في ‌رجل ‌سئل ‌عن ‌زوجته فقال أنا طلقتها وعديت عنها والحال أنه لم يطلقها بل أخبر كاذبا فما الحكم؟(الجواب) : لا يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى وفي العلائي عن شرح نظم الوهبانية قال أنت طالق أو أنت حر وعنى به الإخبار كذبا وقع قضاء إلا إذا أشهد على ذلك. اهـ. وفي البحر الإقرار بالطلاق كاذبا يقع قضاء لا ديانة. اهـ. وبمثله أفتى الشيخ إسماعيل والعلامة الخير الرملي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
49
فتوی نمبر 2088کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --