مفتی صاحب
میرا اور میری بیوی کا جھگڑا ہوا تو میں نے اسے صرف دھمکانے کے لیے یہ کہا کہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا اس طرح میں نے تین دفعہ کہا اب میری بیوی اور سسرال والے کہتے ہیں کہ تم نے طلاق دی ہے مہربانی فرماکر اس کی ذرا وضاحت فرمائیں کہ اس صورت میں کیا حکم ہے طلاق ہوگئی یا نہیں اب میں کیا کروں؟
طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، طلاق صرف اس صورت میں واقع ہوتی ہے جب زبانی یا تحریری طور پر طلاق دی جائے۔
واضح رہے کہ اگر شوہر اور بیوی کے درمیان طلاق کے وقوع پر اختلاف ہو جائے تو بیوی پر اپنے دعوے کے ثبوت میں گواہ پیش کرنا لازم ہے، اگر بیوی کے پاس اپنے دعوے پر کوئی گواہ نہ ہو، تو شوہر سے قسم لی جائے گی، اگر شوہر قسم اٹھا لے تو قضاءً (عدالتی لحاظ سے) نکاح برقرار رہے گا،البتہ اگر بیوی نے خود اپنے کانوں سے شوہر کو تین طلاقیں دیتے ہوئے سنا ہے تو دیانۃً (شرعاً ) وہ شوہر کے لیے حلال نہیں رہے گی اور بیوی پر لازم ہے کہ شوہر کو اپنے قریب نہ آنے دے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کی بیوی پر گواہ پیش کرنا ضروری ہے اگر انکے پاس گواہ نہیں تو آپ پر قسم لازم ہے،لیکن اگر آپ واقعتاً طلاق دے چکے ہیں تو آپ کو بیوی سے ملنا حلال نہیں۔
*فتح القدير:(7/4،ط:دارالفکر)*
ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال.
*الشامية:(669/3، ط: دارالفكر)*
أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا.
*الهندية:(384/1،ط: دارالفکر)*
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال.
*الشامية: (3/ 369،ط:دارالفكر)*
إذا سمعت المرأة الطلاق ولم تسمع الاستثناء لا يسعها أن تمكنه من الوطء اهـ أي فيلزمها منازعته إذا لم تسمع.
*البحر الرائق:(277/3،ط: دارالكتاب الإسلامي )*
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ