طلاق

میاں بیوی میں طلاق کےعدد میں اختلاف ہو جائے

فتوی نمبر :
962
معاملات / احکام طلاق / طلاق

میاں بیوی میں طلاق کےعدد میں اختلاف ہو جائے

کیافرماتے ہے مفتیان کرام اس مسئلہ کے حوالہ سے کہ ایک شوہرنے بیوی کوکہا میری طرف سے آپ کو طلاق ہے ایک بار کہا یہ نہیں کہا کہ ایک طلاق یا دو طلاق یاتین طلاق ہے پھر یا تویہ غصہ میں کہا ہوگا یا طلاق کی نیت ہوگی یامکالمہ طلاق میں بولاہوگا
پھرعورت سے ملاقات نہیں کی پھر عورت بھائی کے گھرآئی پھرعورت کےگھروالوں کو کسی نے بتایاکہ شوہرنے تین طلاقیں دیی ہے پھرعورت والے جرگہ لیکرگئے کہ اگر واقعی تین طلاقیں دی ہے توپھرمہر پورا ادا کرلو لڑکی کوچھوڑدو تاکہ مسئلہ حل ہوجائے
پھرشوہرکے گھروالے اس بات سے ڈرے کہ تین طلاقوں سے پورامہردینا ھوگا
پھرکہا کہ لڑکے نے ایک بار بولاھے کہ میرے طرف سے آپ کوطلاق ھے تین بار نھیں کہا تو طلاق نہیں ہوئی ہے آیا ان تمام صورتوں میں کونسی طلاق واقع ھو گی اور نکاح برقرار رکھنے کی کیاصورت ہوگی
اگر ایک طلاق دی ہے صریح لفظ میں تو کیاحکم ہے اور اگریہ عنداللہ تین طلاق ھے تو اسکاکیاحکم ہے اوراگرتین طلاق دی ہے بعدمیں جھوٹ سے کم کرے تو اسکاکیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر میاں بیوی کے درمیان طلاق کی تعداد پر اختلاف ہو شوہر کہے کہ میں نے ایک طلاق دی ہے اور بیوی دعویٰ کرے کہ تین طلاق دی ہیں، تو شریعت کے مطابق بیوی پر گواہ لانا ضروری ہے، اگر اس کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو شوہر کا قول معتبر ہوگا بشرطیکہ وہ قسم کھائے، البتہ اگر بیوی نے خود اپنے کانوں سے تین طلاق کے الفاظ سنے ہوں تو دیانۃً شوہر کے لیے بیوی کے پاس جانا جائز نہ ہوگا۔

صریح الفاظ میں طلاق دی ہے تو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔
اگر تین طلاقیں دی ہے اور جھوٹ کہ کرکم بتائے تو شوہر کے لیے بیوی کے پاس جانا ناجائز ہے اور ایسا کرنے والا گنہگار ہوگا۔

حوالہ جات

*صحيح مسلم:(128/5،رقم الحديث:1711،ط:دار طوق النجاة)*
حدثني أبو الطاهر أحمد بن عمرو بن سرح ، أخبرنا ابن وهب ،عن ابن جريج ، عن ابن أبي مليكة ،عن ابن عباس أن النبي ﷺ قال: «لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم، ولكن اليمين على المدعى عليه ».

*البحر الرائق:(277/3،ط: دارالكتاب الإسلامي )*
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
74
فتوی نمبر 962کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --