طلاق

میاں، بیوی میں طلاق واقع ہونے میں اختلاف کا حکم

فتوی نمبر :
1596
معاملات / احکام طلاق / طلاق

میاں، بیوی میں طلاق واقع ہونے میں اختلاف کا حکم

میرا نام میمونہ بنت عبداللہ ہے میں کراچی میں رہائش پذیر ہوں۔
مفتی صاحب! ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ میری شادی کی تقریبا عرصہ ہو چکا ہے، میرے شوہر نے مجھے دو سال قبل طلاق دی شرط کے ساتھ خاص کر کے، وہ یہ کہ اگر میں نے جوا کھیلا تو تمہیں طلاق ہے، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد مجھے کہا کہ میں نے جوا کھیلا ہے، میں رجوع کرتا ہوں، پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد پھر کہا کہ اب میں نے جوا کھیلا تو تمہیں طلاق ہے، پھر اس نے جوا کھیلا اور مجھے خود کہا کہ میں نے جوا کھیلا، پھر درمیان میں وقت گزرا اور پھر کہا کہ آپ نے اگر فلاں شخص سے بات کی یا اس کے سامنے آئی تو آپ کو طلاق ہے، اس صورت میں نہ میں نے اس شخص سے بات کی نہ میں اس کے سامنے آئی، پھر کچھ عرصہ گزرا اس نے مجھے کہا کہ اگر میں نے حلال پیسوں سے جوا کھیلا تو تمہیں پھر طلاق ہے اور پھر اس صورت میں اس نے خود اقرار کیا کہ میں نے حلال پیسوں سے جو کھیلا ہے تو میں نے اس صورت میں دار الافتاء سے فتوی لیا، انہوں نے فتوی دیا کہ طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ واقع ہو چکی ہے اور عورت مرد پر حرام ہو چکی ہے اور اب بات یہاں آ گئی ہے کہ شوہر انکاری ہو چکا ہے کہ میں نے کوئی طلاق کے الفاظ ادا نہیں کیے، اس بات پر شوہر قسم اٹھانے کے لیے بھی تیار ہے اور میں بھی اس بات پر قسم اٹھاتی ہوں کہ اس نے اس طرح طلاق کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
برائے کرم ہمیں آگاہ کریں کہ شریعت اس معاملے میں کیا کہتی ہے اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر شوہر اور بیوی کے درمیان طلاق کے وقوع پر اختلاف ہو جائے تو بیوی پر اپنے دعوے کے ثبوت میں گواہ پیش کرنا لازم ہے، اگر بیوی کے پاس اپنے دعوے پر کوئی گواہ نہ ہو، تو شوہر سے قسم لی جائے گی، اگر شوہر قسم اٹھا لے تو قضاءً (عدالتی لحاظ سے) نکاح برقرار رہے گا،البتہ اگر بیوی نے خود اپنے کانوں سے شوہر کو تین طلاقیں دیتے ہوئے سنا ہے تو دیانۃً (شرعاً ) وہ شوہر کے لیے حلال نہیں رہے گی اور بیوی پر لازم ہے کہ شوہر کو اپنے قریب نہ آنے دے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کے پاس گواہ نہیں ہیں تو شوہر پر قسم لازم ہوگی اگر شوہر قسم اٹھالے تو قضاءً نکاح برقرار رہے گا، مگر دیانۃً نکاح ختم سمجھا جائے گا اور آپ پر لازم ہے کہ شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دیں اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔

حوالہ جات

*الشامية: (3/ 369،ط:دارالفكر)*
إذا ‌سمعت ‌المرأة ‌الطلاق ولم تسمع الاستثناء لا يسعها أن تمكنه من الوطء اهـ أي فيلزمها منازعته إذا لم تسمع.

*البحر الرائق:(277/3،ط: دارالكتاب الإسلامي )*
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
65
فتوی نمبر 1596کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --