طلاق

شوہر کا بیوی سے یہ کہنا کہ ’’اگر آپ نے ایک قدم بھی چوکھٹ سے باہر نکالا تو مجھ سے أزاد ہو’’۔

فتوی نمبر :
949
معاملات / احکام طلاق / طلاق

شوہر کا بیوی سے یہ کہنا کہ ’’اگر آپ نے ایک قدم بھی چوکھٹ سے باہر نکالا تو مجھ سے أزاد ہو’’۔

اگر کوی والد اپنے بیٹوں کو گھر سے نکالتا ہے تو ان کی والدہ بھی گھر چھوڑ نے کا ارادہ کرتی ہے اس پر ان کا شوہر کہتا ہے کہ آپ نے اک قدم بھی چوکھٹ سے باہر نکالا تو مجھ سے آزاد ہو پھر بھی وہ عورت گھر سے نکلتی ہے تو کیا یہ عورت طلاق ہوگئی یا نہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر نے طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرکے بیوی سے کہا کہ ’’آپ نے ایک قدم بھی چوکھٹ سے باہر نکالا تو مجھ سےآزاد ہو‘‘ اور بیوی اسی وقت باہر نکل گئی تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ہے اور اگر اس وقت نہیں نکلی بعد میں کسی موقع پر نکلی تواس سے طلاق واقع نہیں ہوگی اور مزید آئندہ بھی گھر سے نکلنے پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

*الدر المختار مع ردالمحتار:(762/3،ط:دارالفکر)*
(و شرط للحنث في) قوله: (إن خرجت مثلًا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب (فعله فورًا)؛ لأنّ قصده المنع عن ذلك الفعل عرفًا و مدار الأيمان عليه، و هذه تسمى يمين الفور تفرّد أبو حنيفة - رحمه الله - بإظهارها و لم يخالفه أحد...(قوله: فورًا) سئل السغدي بماذا يقدر الفور؟ قال بساعة، واستدل بما ذكر في الجامع الصغير: أرادت أن تخرج فقال الزوج إن خرجت فعادت وجلست وخرجت بعد ساعة لايحنث حموي عن البرجندي، و لايشترط لعدم حنثه إذا خرجت بعد ساعة تغير تلك الهيئة الحاصلة مع إرادة الخروج، يشير إليه قول الفتح تهيأت للخروج، فحلف لاتخرج فإذا جلست ساعة ثم خرجت لايحنث؛ لأن قصده منعها من الخروج الذي تهيأت له فكأنه قال: إن خرجت الساعة، و هذا إذا لم يكن له نية فإن نوى شيئا عمل به شرنبلالية.

*الشامیة:(252/3،ط:دارالفکر)*
وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لايستعمل عرفاً إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك، فوجب اعتباره صريحاً، كما أفتى المتأخرون في "أنت علي حرام" بأنه طلاق بائن؛ للعرف بلا نية، مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية.

*بدائع الصنائع:(13/3،ط:دارالکتب العلمیة)*
( وأما ) الموقت دلالة فهو المسمى يمين الفور وأول من اهتدى إلى جوابها أبو حنيفة ثم كل من سمعه استحسنه وما رآه المؤمنون حسنا فهو عند الله حسن وهو أن يكون اليمين مطلقا عن الوقت نصا ، ودلالة الحال تدل على تقييد الشرط بالفور بأن خرج جوابا لكلام أو بناء على أمر نحو أن يقول لآخر : تعال تغد معي ، فقال : والله لا أتغدى فلم يتغد معه ثم رجع إلى منزله فتغدى لا يحنث استحسانا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
51
فتوی نمبر 949کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --