تحقیق و تخریج حدیث

حدیث ضعیف کی تعریف اور اس کا حکم

فتوی نمبر :
1041
قرآن و حدیث / تحقیق و تخریج حدیث / تحقیق و تخریج حدیث

حدیث ضعیف کی تعریف اور اس کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ضعیف حدیث کسے کہتے ہیں اور اس کا کیا حکم ہے ؟ اس پر عمل کرنا چاہیےیا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حدیث ضعیف کی تعریف کو سمجھنے سے پہلے حدیث صحیح اور حدیث حسن کی تعریف کو سمجھنا ضروری ہے۔
*حدیث صحیح کی تعریف:*
حدیث صحیح وہ حدیث ہے جس میں درج ذیل پانچ شرائط پائی جائیں:
۱) اس کی سند متصل ہو(منقطع نہ ہو)۔
۲) تمام راوی عادل ہوں۔(یعنی دیانت دار، تقویٰ والے اور بدعت و فسق سے پاک ہوں)
۳)تام الضبط ہوں ۔(یعنی ان کا حافظہ اور یادداشت درست اور قابل اعتماد ہو)
۴) حدیث معلل نہ ہو ۔(یعنی ایسی چھپی ہوئی خرابی جو عام نظر سے اوجھل ہو)
۵) حدیث شاذ نہ ہو۔(یعنی راوی اپنے سے زیادہ ثقہ راویوں کی مخالفت نہ کرے)
*حدیث حسن کی تعریف:*
حدیثِ حسن وہ ہے کہ جس کے راوی عادل ہوں، مگر یہ کہ ضبط میں کمزور ہوں، اس کی سندبھی متصل ہو(منقطع نہ ہو)،اورحدیث معلل اورشاذبھی نہ ہو۔
*حدیثِ ضعیف کی تعریف:*
ضعیف وہ حدیث ہے، جس میں حدیثِ حسن کی شرائط مکمل طور پر نہ پائی جاتی ہوں۔

ضعیف حدیث کے بارے میں خطیب بغدادی(م۴۶۳ھ)لکھتےہیں:
’’امام حافظ ابو زکریا العنبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اگر حدیث ترغیب، ترہیب میں شدت یا رخصت کے باب میں مروی ہو تو اس کے راویوں کی چھان پھٹک اور اسانید کے جرح و تعدیل میں چشم پوشی سے کام لے کر تساہل اختیار کیا جاتا ہے۔‘‘
امام نووی(م۶۷۶ھ)لکھتے ہیں:
’’محدثین فقہائےکرام وغیرہ فرماتے ہیں کہ فضائل اور ترغیب و ترہیب میں ضعیف حدیث پر عمل جائز اور مستحب ہے بشرطیکہ وہ موضوع نہ ہو جہاں تک حلال و حرام ، بیع،نکاح اور طلاق وغیرہ جیسے احکام کا تعلق ہے تو ان میں حدیث صحیح اور حسن کے بغیر عمل نہیں کیا جائے گا ہاں مگر یہ کہ اس میں سے کسی معاملہ میں احتیاط مطلوب ہو جیسے بعض بیوع اور نکاحوں میں کراہت کے بارے میں کوئی ضعیف حدیث ہو تو مستحب یہ ہے کہ اس سے بچا جائے لیکن یہ واجب نہیں۔‘‘
حافظ شمس الدین سخاوی(م۹۰۲ھ) نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے۔
’’میں نے اپنے شیخ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، اور انہوں نے اپنے دستِ مبارک سے لکھ کر مجھے دیا کہ ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے تین شرائط ہیں:
پہلی شرط (جس پر سب کا اتفاق ہے) یہ ہے کہ ضعف شدید نہ ہو، لہٰذا ایسے راوی کی روایت خارج ہوگی جو کذاب ہو، یا جس پر جھوٹ گھڑنے کا الزام ہو، یا جس کی غلطیاں حد سے زیادہ ہوں۔
دوسری شرط یہ ہے کہ وہ حدیث کسی عام اور ثابت شدہ اصل کے تحت داخل ہو، لہٰذا وہ روایت خارج ہوگی جو محض اختراعی ہو اور اس کا کوئی اصل ہی نہ ہو۔

تیسری شرط یہ ہے کہ اس ضعیف حدیث پر عمل کرتے وقت اس کے ثابت ہونے کا یقین نہ رکھا جائے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف وہ بات منسوب کر دی جائے جو آپ ﷺ نے ارشاد ہی نہیں فرمائی۔
شیخ عوامہ دامت برکاتہم العالیہ نے حدیث ضعیف پر عمل کے لیے آٹھ شرائظ لکھیں،جس کا خلاصہ یہ ہے:
۱۔ضعیف حدیث پر صرف فضائلِ اعمال، ترغیب و ترہیب کے ابواب میں عمل کیا جا سکتا ہے۔عقائد اور شرعی احکام (حلال و حرام) میں اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
۲۔حدیث اتنی کمزور نہ ہو کہ وہ ’’موضوع‘‘ یعنی من گھڑت اور جھوٹی بات کے درجے تک پہنچ جائے۔
۳۔وہ حدیث انتہائی درجے کی ضعیف یا مردود نہ ہو۔
۴۔وہ حدیث کسی صحیح اصل کے تحت ہو۔
۵۔اس پر عمل کرنے والا یہ عقیدہ نہ رکھے کہ یہ حدیث یقینی طور پر رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔
۶۔ اس پر عمل کرنے والا اپنےعمل کو لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرے۔
۷۔ اس ضعیف حدیث پر مبنی عمل کو سنت قرار نہ دیا جائے۔
۸۔ ضعیف حدیث صحیح حدیث کے خلاف نہ ہو۔
*خلاصۂ کلام:*
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ جمہور علمائے کرام کے نزدیک ضعیف حدیث کو فضائل اعمال ، ترغیب وترہیب، قصص ومغازی وغیرہ میں دلیل بنانا اور عمل کرنا درست ہے، بشرطیکہ وہ حدیث ضعیف ہو، موضوع نہ ہو، اور اس کی اصل شریعت میں موجود ہو، اور اس عمل کی سنّیت کا اعتقاد نہ رکھا جائے۔

حوالہ جات

*نخبة الفكر:(ص:66.ط:مكتبة البشرى)*
و‌‌خبر الآحاد ‌بنقل ‌عدل تام الضبط، متصل السند، غير معلل ولا شاذ: هو الصحيح لذاته.

*شرح نخبة الفكر للقاري:(ص:296،ط:دار الأرقم)*
فتعريف الحسن لذاته: خبر الواحد ‌بنقل ‌عدل ‌خفيف ‌الضبط متصل السند غير معلل، ولا شاذ به.

*توجيه النظر إلى أصول الأثر:(2/ 546،ط: مكتبة المطبوعات الإسلامية)*
‌‌المبحث الثالث في الحديث الضعيف قال بعض العلماء الحديث هو ما لم يجمع صفات الحديث الصحيح ولا صفات الحديث الحسن وقال بعضهم الأولى في حده أن يقال هو ‌ما ‌لم ‌يبلغ ‌مرتبة ‌الحسن.

*المستدرك على الصحيحين:(1/ 666،ط:دارالكتب العلمية)*
عن عبد الرحمن بن مهدي، يقول: إذا روينا، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الحلال، والحرام، والأحكام، ‌شددنا ‌في ‌الأسانيد، وانتقدنا الرجال، وإذا روينا في فضائل الأعمال والثواب، والعقاب، والمباحات، والدعوات تساهلنا في الأسانيد .

*الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي:(ص134،ط: جمعية دائرة المعارف العثمانية)*
أخبرنا محمد بن أحمد بن يعقوب، أنا محمد بن نعيم ، قال: سمعت أبا زكريا العنبري ، يقول: «الخبر إذا ورد لم يحرم حلالا ، ولم يحل حراما ، ولم يوجب حكما ، ‌وكان ‌في ‌ترغيب ‌أو ‌ترهيب ، ‌أو ‌تشديد أو ترخيص ، وجب الإغماض عنه ، والتساهل في رواته.

*الأذكار للنووي: (ص47،ط:دارابن كثير)*
قال العلماءُ من المحدّثين والفقهاء وغيرهم: يجوز ‌ويُستحبّ ‌العمل ‌في ‌الفضائل ‌والترغيب ‌والترهيب ‌بالحديث ‌الضعيف ‌ما ‌لم ‌يكن ‌موضوعًا ، وأما الأحكام كالحلال والحرام والبيع والنكاح والطلاق وغير ذلك فلا يُعمل فيها إلا بالحديث الصحيح أو الحسن إلا أن يكون في احتياطٍ في شيء من ذلك، كما إذا وردَ حديثٌ ضعيفٌ بكراهة بعض البيوع أو الأنكحة، فإن المستحبَّ أن يتنزّه عنه ولكن لا يجب.

*القول البديع للسخاوي: (ص255،ط:دار الريان)*
وقد سمعت شيخنا مرادا يقول وكتبه لي بخطه أن شرائط العمل بالضعيف ثلاثة، الأول متفق عليه أن يكون الضعف غير شديد فيخرج من أنفرد من الكذابين والمتهمين بالكذب ومن فحش غلطه، الثاني أن يكون مندرجا تحت أصل عام فيخرج ما يخترع بحيث لا يكون له أصل أصلا، الثالث أن لا يعتقد عند العمل بع ثبوته لئلا ينسب إلى النبي صلى الله عليه وسلم ما لم يقله.

*تبيين العجب لابن حجرالعسقلاني:(ص:23،ط:مؤسسة قرطبة)*
اشتهر أن أهل العلم يتسمَّحُون في ‌إيراد ‌الأحاديث ‌في ‌الفضائل وإن كان فيها ضعف، ما لم تكن موضوعة، وينبغي مع ذلك اشتراط أن يعتقد العامل كون ذلك الحديث ضعيفًا، وأن لا يشهر ذلك لئلا يعمل المرء بحديث ضعيف فيشرع ما ليس بشرع، أو يراه بعض الجهال فيظن أنه سنة صحيحة، وقد صرح بمعنى ذلك الأستاذ أبو محمد بن عبد السلام وغيره.

*حكم العمل بالحديث الضعيف للشيخ محمد عوامة:(ص:73-74،ط:داراليسر)*
1 - أطلق الأئمة المتقدمون الذين تقدمت أقوالهم، أطلقوا القول في جواز العمل به، دون أي قيد أو شرط لتحديد رتبة ضعفه، سوى أن يكون الحديث في باب الفضائل والترغيب والترهيب، أما الأحكام الشرعية : الحلال والحرام فلا، وأما العقائد فمن باب أولى أن لا يحتج به فيها.
وأقوالهم رحمهم الله تعالى ماثلة أمام القارئ الكريم، ابتداء من الإمام سفيان الثوري، إلى الإمام الزرقاني شارح المواهب».
۲ - ثم زاد ابن الصلاح شرطاً آخر ملحوظاً من خلال اطراح العلماء جميعهم للحديث الموضوع، وقال ما خلاصته أن لا يصل الضعف به إلى كونه موضوعاً، وتابعه عليه من بعده، فهذا شرط ثان.
٣ - وارتأى آخرون إخراج ما اشتد ضعفه عن دائرة ما يعمل به، فهذا شرط ثالث، ادعي عليه الاتفاق، ولا يصح، وسيأتي البيان.
وذكر بعض العلماء شروطاً أخرى، وهي:
٤ - أن يكون لهذا الضعيف أصل يندرج تحته .
٥- وأن لا يعتقد العامل به ثبوته .
٦ - وأن لا يشهر العامل عمله به أمام الناس .
٧- وأن لا يعتقد سنيته .
٨- وأن لا يخالف الضعيف حديثاً صحيحاً .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
66
فتوی نمبر 1041کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --