کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی شخص کو یہ شک پڑجائے ، کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی ہے یا تین ؟ تو کیا یہ شخص اس صورت میں اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے ؟
طلاق کی تعداد کے بارے میں اگر شوہر کو شک پڑجائے ، تو جو عمل یقینی ہو اسی پر عمل کیا جاتا ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں ایک طلاق یقینی واقع ہوگئی ہے ، اور ایک طلا ق کے بعد رجوع کیا جاتا ہے ، لہذا یہ شخص اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے ۔
الدرالمختار : (3/ 283، ط: دارالفكر) ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل. الهندية: (1/ 363، ط: دارالفكر) عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا شك في أنه طلق واحدة أو ثلاثا فهي واحدة حتى يستيقن أو يكون أكبر ظنه على خلافه.