اویس(فرضی نام) نے اپنی بیوی کو غصے میں کہا کہ تیرے باپ کو طلاق، تجھے طلاق، اب اویس(فرضی نام) کی بیوی نے اس سے پوچھا دو دن بعد آپ نے مجھے اک طلاق دی تو شوہر مکر گیا کہ میں نے کہا ہی نہیں میں حلف اٹھانے کے لیے تیار ہوں، قرآن پاک اٹھانے کے لیے تیار ہوں، وہ کہتا ہے بیوی سے جسے بتانا ہے بتاؤ میرا کچھ نہیں جائے گا تم بدنام ہو گی، اس وقت کوئی موجود نہیں تھا جو گواہی دے اور شوہر یہ بھی کہتا ہے کہ اگر ایک طلاق بھی ثابت ہوجائے تو اپنے گھر چلی جانا۔ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کہ بیوی کے لیے کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ اگر شوہر اور بیوی کے درمیان طلاق کے وقوع پر اختلاف ہو جائے تو بیوی پر اپنے دعوے کے ثبوت میں گواہ پیش کرنا لازم ہے، اگر بیوی کے پاس اپنے دعوے پر دو گواہ نہ ہوں تو شوہر سے قسم لی جائے گی، اگر شوہر قسم اٹھا لے تو قضاءً (عدالتی لحاظ سے) کوئی بھی طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ اگر بیوی نے خود اپنے کانوں سے شوہر کو طلاق دیتے ہوئے سنا ہے تو دیانۃً ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی ، جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر عدت کے اندر بغیر نکاح کے رجوع کرسکتا ہے، رجوع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے کہہ دے کہ "میں نے رجوع کرلیا" یا زبان سے کچھ نہ کہے، مگر آپس میں میاں بیوی کا تعلق قائم کرلے یا خواہش اور رغبت سے اس کو ہاتھ لگالے، تب بھی رجوع ہو جائے گا، البتہ اگر عدت گزر گئی تو پھر نیا مہر مقرر کر کے گواہوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا، البتہ شوہر کے لیے آئندہ دو طلاق کا حق باقی ہوگا، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر بیوی کے پاس گواہ نہیں ہیں تو اویس(شوہر )سے قسم لی جائے گی ۔
صحيح مسلم:(128/5،رقم الحديث:1711،ط:دار طوق النجاة)* حدثني أبو الطاهر أحمد بن عمرو بن سرح ، أخبرنا ابن وهب ،عن ابن جريج ، عن ابن أبي مليكة ،عن ابن عباس أن النبي ﷺ قال: «لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم، ولكن اليمين على المدعى عليه ». *الشامية: (3/ 369،ط:دارالفكر)* إذا سمعت المرأة الطلاق ولم تسمع الاستثناء لا يسعها أن تمكنه من الوطء اهـ أي فيلزمها منازعته إذا لم تسمع. *البحر الرائق:(277/3،ط: دارالكتاب الإسلامي )* والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ *الهندية:(1/ 470،ط:دارالفکر)* وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.