طلاق

طلاق دوں کہنے سے طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
2387
معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق دوں کہنے سے طلاق کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت!
میں نے اپنی بیوی کو غصے میں یہ الفاظ بولے ہیں، میں طلاق دوں ،دوں،دوں؟
برائے مہربانی اس بات کی رہنمائی فرمائیں کہ ان الفاظ سے میری بیوی کو طلاق ہوئی یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، طلاق صرف اس صورت میں واقع ہوتی ہے جب زبانی یا تحریری طور پر طلاق دی جائے۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ مذکورہ الفاظ دھمکی کے ہیں اس لیے ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

*فتح القدير:(7/4،ط:دارالفکر)*
ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال.

*الشامية:(669/3، ط: دارالفكر)*
أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا.

*الهندية:(384/1،ط: دارالفکر)*
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
1
فتوی نمبر 2387کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --