السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت!
میں نے اپنی بیوی کو غصے میں یہ الفاظ بولے ہیں، میں طلاق دوں ،دوں،دوں؟
برائے مہربانی اس بات کی رہنمائی فرمائیں کہ ان الفاظ سے میری بیوی کو طلاق ہوئی یا نہیں ؟
طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، طلاق صرف اس صورت میں واقع ہوتی ہے جب زبانی یا تحریری طور پر طلاق دی جائے۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ مذکورہ الفاظ دھمکی کے ہیں اس لیے ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
*فتح القدير:(7/4،ط:دارالفکر)*
ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال.
*الشامية:(669/3، ط: دارالفكر)*
أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا.
*الهندية:(384/1،ط: دارالفکر)*
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال.