محترم جناب مفتی صاحب السلام و علیکم ! " میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی کو تین سال ہو گئے ہیں میرے شوہر کیک لانا چاہ رہے ہیں تو میں نے شوہر کو بولا کیک کے پیسے سے پورا دن گھر چل جائے گا، کیک لانے کی کیا ضرورت ہے تو اس بات پر میرے شوہر کو غصہ آیا اور انھوں نے مجھے کہا کہ"میں تمہیں تین دے کر اب اپنی ماں کے گھر جا رہا ہوں، طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ پھر میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی اور میں بچوں کی خاطر ساتھ رہتی رہی ۔ پھر اس کے بعد گزشتہ رمضان سے پہلے میں نے ان کو چاول لانے کیلئے کہا تو اس بات پر ہماری لڑائی ہو گئی اور انہوں نے مجھے یہ کہا کہ تم میرے گھر سے چلی جاؤ، پھر میں نے برقع پہنا تو اس نے مجھے یہ کہا اگر تم میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلی تو میری زندگی سے سے خارج ہو جاؤ گی۔ پھر اس کے بعد میں اسی وقت غصے میں گھر سے باہر نکل گئی، پھر اس کے بعد میں بچوں کے خاطر ساتھ رہتی رہی، پھر اس کے کچھ دن بعد انہوں نے لڑائی میں مجھے یہ کہا کہ میں تمہیں مولوی صاحب کو لا کر صاف کر دوں گا، پھر اس کے بعد میں اپنے میکے آگئی ۔ اس بات کو ایک ہفتہ ہو گیا ہے اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور اپنے میکے میں ایک ہفتے سے آئی ہوں ۔ اس سے پہلے میں بچوں کے خاطر شوہر کے ساتھ رہتی رہی۔ سمیرہ زوجہ محمد اسماعیل 10304059 - 0370 شوہر کا بیان: میں نے خط کشیدہ الفاظ غصہ میں اور ڈرانے کیلئے کہے تھے ، ان سے میری طلاق کی نیت نہیں تھی۔
واضح رہے کہ پوچھی گئی صورت میں شوہر کا پہلا جملہ: "میں تین دے کر امی کے گھر جا رہا ہوں"، اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی، اگرچہ شوہر نے اس سے طلاق کی نیت ہی کیوں نہ کی ہو۔ البتہ دوسرا جملہ: "اگر تم گھر سے چلی گئی تو تم میری زندگی سے خارج ہو" اور آپ اس کے فوراً بعد گھر سے نکل گئی تھیں تو ایسی صورت میں چونکہ اس وقت طلاق کا مذاکرہ اور ماحول موجود تھا تو ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی۔ اسی طرح تیسرا جملہ: "میں مولوی کو بلا کر صاف کر دیتا ہوں"، اس سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ مذکورہ صورت میں ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے اب اگر میاں بیوی دوبارہ اکٹھے رہنا چاہیں تو اس کی صورت یہ ہے کہ دو گواہوں کی موجودگی میں مہرِ جدید کے ساتھ نکاحِ جدید کر لیا جائے۔ اس کے بعد دونوں دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں اور شوہر کے پاس آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
الشامية:(296/3،ط:دارالفکر) "(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال)، وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب. (قوله: وهي حالة مذاكرة الطلاق) أشار به إلى ما في النهر من أن دلالة الحال تعم دلالة المقال قال: وعلى هذا فتفسر المذاكرة بسؤال الطلاق أو تقديم الإيقاع، كما في اعتدي ثلاثاً وقال قبله المذاكرة أن تسأله هي أو أجنبي الطلاق" المبسوط للسرخسي: (6/ 72،ط:دار المعرفة) (قال) ولو قال أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية فإن لم ينو الطلاق لا يقع الطلاق لأنه تكلم بكلام محتمل.