طلاق

رخصتی سے پہلے " میں تمہیں چھوڑتا ہوں" کہنے سے طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
2131
معاملات / احکام طلاق / طلاق

رخصتی سے پہلے " میں تمہیں چھوڑتا ہوں" کہنے سے طلاق کا حکم

کچھ عرصہ پہلے میرا نکاح ہوا، ابھی رخصتی نہیں ہوئی، لیکن اکثر بات چیت ہوتی تھی، ایک دن میں اپنی بیوی سے موبائل پر بات کررہا تھا تو میری بیوی نے کہا میں کسی اور سے موبائل پر بات کرتی ہوں اور وہ لڑکا میرے لیے چیزیں خریدتا ہے اور مجھے پیسہ دیتا ہے وغیرہ اس کے بعد بیوی نے مجھ سے سوال کیا کہ اب آپ میرے ساتھ کیا کرو گے ؟
مجھے غصہ آیا میں نے اس سے کہا" میں تمہیں چھوڑتا ہوں" صرف ایک بار یہ الفاظ کہے تھے ۔ یہ الفاظ کہتے وقت میرا ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا۔ یہ الفاظ کہنے کے بعد میری بیوی نے کہا میں مذاق کررہی تھی اور میں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور میں آپ کو معلوم کررہی تھی کہ کیا کہتے ہو تم۔ ابھی مجھ شک ہے کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں ۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں شکریہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ’’میں تمہیں چھوڑتا ہوں‘‘ یہ الفاظ اگر چہ اصل میں کنایہ ہیں، لیکن عرف ِعام میں یہ الفاظ طلاق کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں، اس لیے اب یہ صریح طلاق کے حکم میں ہیں اور اس سے بغیر نیت بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اگر کوئی شخص رخصتی سے پہلے بیوی کو صریح طلاق دے دے تو اس سے طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں جب شوہر نے رخصتی سے پہلے بیوی سے کہا کہ " میں تمہیں چھوڑتا ہوں" تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے ، دونوں کا نکاح ختم ہو گیا، اب اگر دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نئے مہر کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم نکاح جدید کے بعد شوہر کو آئندہ کے لیے صرف دو طلاق کا اختیار ہو گا۔

حوالہ جات

*الشامية:(3/ 299،ط:دارالفكر)*
فإن ‌سرحتك ‌كناية ‌لكنه ‌في ‌عرف ‌الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي.

*البحر الرائق: (3/ 325،ط:دارالکتاب الاسلامی)*
ومن المتأخرين كانوا يفتون ‌بأن ‌لفظ ‌التسريح ‌بمنزلة ‌الصريح يقع به طلاق رجعي بدون النية كذا في المجتنى،.

*الهندية:(373/1،ط:دارالفكر)*
إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة.

*الھدایة: (257/2، ط: دار احیاء التراث العربی)*
"وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله".

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
16
فتوی نمبر 2131کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --