کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کو اپنے شوہرکی طرف سے جائیداد میراث میں ملی ہے ، اب وہ عورت ایک بچے کے ساتھ زیادہ ہمدردی کی وجہ سے پورا جائیداد اس ایک بچے کے نام کرکے دوسرے بچے کو بے دخل کرنا چاہتی ہے کیا اس عورت کے لیے اس طرح کرنا جائز ہے ؟
واضح رہے کہ عورت کا اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو کچھ دینا میراث نہیں، بلکہ ہبہ (تحفہ ، گفٹ ) کہلاتا ہے ، لہذا ایک بچے کو کوئی مال دینا اور دوسرے کو نہ دینا جا ئز ہے،لیکن بہتر نہیں ۔
صحيح البخاري: (3/ 157، رقم الحديث : 2586، ط: دارطوق النجاة )
عن النعمان بن بشير : أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما، فقال: أكل ولدك نحلت مثله، قال: لا، قال: فارجعه.
عمدة القاري : (13/ 143، ط:دارالفكر)
واختلف الفقهاء في معنى التسوية: هل هو على الوجوب أو على الندب؟ فأما مالك والليث والثوري والشافعي وأبو حنيفة وأصحابه فأجازوا أن يخص بعض بنيه دون بعض بالنحلة والعطية، على كراهية من بعضهم، والتسوية أحب إلى جميعهم. وقال الشافعي: ترك التفضيل في عطية الأبناء فيه حسن الأدب، ويجوز له ذلك في الحكم، وكره الثوري وابن المبارك وأحمد أن يفضل بعض ولده على بعض في العطايا.
الموسوعة الفقهية : (42/ 125، ط: وزارة الاوقاف والشئون الاسلامية)
يتفق أهل العلم على أن الأب إذا أعطى لأولاده صحت عطاياه.